تم سب بہت ذلیل کردار کے ہو!

تم سب نفیس پُرآسائش نشستوں پر بیٹھتے ہو اور اپنے خاندان کی نوجوان نسل کو اپنے پاس بٹھا کر لکچر دیتے ہو۔ تمہیں اس بات کا بہت کم علم ہے کہ تمہارے ”آباؤاجدا“ کی بہت پہلے سانس پھول گئی تھی اور وہ میرا کام کھو بیٹھے تھے۔ میرا جاہ وجلال مشرق کی سرزمین سے مغرب کی سرزمین تک چمکتا ہے، پھر بھی جب وہ زمین کے کناروں تک پھیل جاتا ہے اور اوپر اٹھنا اور چمکنا شروع کرے گا، میں مشرق سے اپنا جاہ وجلال مغرب میں لے کر آؤں گا تاکہ تاریکی کے لوگ جنہوں نے مجھے مشرق میں چھوڑ دیا ہے، اس کے بعد سے روشنی سے محروم رہیں گے۔ جب ایسا ہو گا، تو تم سائے کی وادی میں رہو گے۔ اگرچہ آج کل کے لوگ پہلے سے سو گنا بہتر ہیں، لیکن وہ اب بھی میری شرائط کو پورا نہیں کر سکتے، اور وہ اب بھی میرے جاہ و جلال کی گواہی نہیں ہیں۔ یہ جو تم پہلے سے سو گنا بہتر ہونے کے قابل ہو تو یہ مکمل طور پر میرے کام کا نتیجہ ہے؛ یہ زمین پر میرے کام کا پھل ہے۔ تاہم، میں اب بھی تمہارے قول و فعل کے ساتھ تمہارے کردار سے بھی نفرت محسوس کرتا ہوں، اور مجھے اس بات پر ناقابل یقین رنجیدگی محسوس ہوتی ہے کہ تم میرے سامنے کیسے کام کرتے ہو، کیونکہ تمہیں میرے بارے میں کوئی سمجھ بوجھ ہی نہیں ہے۔ تو پھر، تم کیسے میرے جاہ وجلال کے مطابق زندگی بسر کر سکتے ہو، اور تم میرے مستقبل کے کام کے لیے کس طرح مکمل طور پر وفادار ہو سکتے ہو؟ تمہارا ایمان بہت خوبصورت ہے؛ تم کہتے ہو کہ تم میرے کام کی خاطر اپنی پوری زندگیاں خرچ کرنے کے لیے تیار ہو، اور یہ کہ تم اس کے لیے اپنی جانیں قربان کرنے کے لیے آمادہ ہو، لیکن تمہارے مزاج زیادہ تبدیل نہیں ہوئے ہیں۔ تم بہت تکبر سے بات کرتے ہو، اس حقیقت کے باوجود کہ تمہارا اصل رویہ بہت گھٹیا ہے۔ یہ ایسے ہے گویا لوگوں کی زبانیں اور ہونٹ تو آسمان پر ہیں لیکن ان کی ٹانگیں نیچے زمین پر آئی ہوئی ہیں اور اس کے نتیجے میں ان کے قول و فعل اور ان کی ساکھ ابھی تک تباہ حال ہے۔ تمہاری ساکھ تباہ ہو گئی ہے، تمہارا انداز غیر اخلاقی ہے، تمہارے بولنے کا انداز پست ہو گیا ہے، اور تمہاری زندگیاں قابلِ نفرت ہیں۔ حتیٰ کہ تمہاری مکمل انسانیت ذلالت کی پستی میں ڈوب چکی ہے۔ تم دوسروں کے بارے میں تنگ نظر ہو، اور تم ہر چھوٹی چیز پر حجت کرتے ہو۔ تم اپنی ساکھ اور حیثیت پر جھگڑتے ہو، یہاں تک کہ تم جہنم اور آگ کی جھیل میں اترنے تک کو تیار ہوتے ہو۔ تمہارے موجودہ قول و فعل میرے یہ تعین کرنے کے لیے کافی ہیں کہ تم گناہ گار ہو۔ میرے کام کے بارے میں تمہارے رویے میرے لیے اس بات کا تعین کرنے کے لیے کافی ہیں کہ تم ناراستباز ہو، اور تمہارے تمام مزاج اس بات کی نشاندہی کرنے کے لیے کافی ہیں کہ تم غلیظ روحیں ہو جو مکروہات سے بھری ہوئی ہیں۔ تمہارے مظاہر اور جو تم ظاہر کرتے ہو یہ کہنے کے لیے کافی ہیں کہ تم وہ لوگ ہو جنہوں نے جی بھر کے ناپاک روحوں کا خون پیا ہے۔ جب بادشاہی میں داخل ہونے کا ذکر کیا جاتا ہے، تو تم اپنے جذبات کو ظاہر نہیں کرتے ہو۔ کیا تمہیں یقین ہے کہ جیسے تم اب ہو یہ تمہیں میری آسمان کی بادشاہی کے دروازے سے گزارنے کے لیے کافی ہے؟ کیا تمہیں یقین ہے کہ تم میری طرف سے اپنے قول و فعل کی آزمائش کے بغیر میرے کام اور کلام کی مقدس سرزمین میں داخلہ حاصل کر سکتے ہو؟ کون غلط بیانی کر کے مجھے دھوکا دے سکتا ہے؟ تمہارے قابلِ نفرت، گھٹیا رویے اور گفتگو میری نظروں سے کیسے بچ سکتی ہے؟ تمہاری زندگیوں کا تعین میں نے خون پینے اور ان ناپاک روحوں کا گوشت کھانے واالوں کی زندگیوں کے طور پر کیا ہے کیونکہ تم ہر روز میرے سامنے ان کی نقل کرتے ہو۔ میرے سامنے تمہارا رویہ خاصا برا رہا ہے، تو پھر تم مجھے ناگوار کیسے نہیں لگو گے؟ تمہارے الفاظ میں ناپاک روحوں کی نجاست پائی جاتی ہے: تم ورغلاتے ہو، چھپاتے ہو اور خوشامد کرتے ہو بالکل ان کی طرح جو جادو کرتے ہیں اور ان کی طرح جو دغا باز ہیں اور ناراستبازوں کا خون پیتے ہیں۔ انسان کے تمام تاثرات انتہائی ناراستباز ہیں، تو تمام لوگوں کو اُس مقدس سرزمین میں کیسے رکھا جا سکتا ہے جہاں راستباز ہیں؟ کیا تیرا خیال ہے کہ تیرا یہ قابلِ نفرت رویہ تجھے ان ناراستبازوں کے مقابلے میں مقدس قرار دے سکتا ہے؟ تیری سانپ جیسی زبان آخرکار تیرے اس تباہی پھیلانے اور نفرت انگیز کام کرنے والے جسم کو برباد کر دے گی اور تیرے وہ ہاتھ بھی جو ناپاک روحوں کے خون میں لتھڑے ہوئے ہیں، آخرکار تیری روح کو جہنم میں کھینچ لیں گے۔ پھر تو اپنے غلاظت میں لتھڑے ہوئے ہاتھوں کو صاف کرنے کے لیے اس موقع سے فائدہ کیوں نہیں اٹھاتا ہے؟ اور تو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی یہ زبان کاٹ کیوں نہیں دیتا جو برے الفاظ بولتی ہے؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ تو اپنے ہاتھوں، زبان اور ہونٹوں کی خاطر جہنم کے شعلوں کو برداشت کرنے کے لیے تیار ہو؟ میں دونوں آنکھوں سے ہر ایک کے دل پر نظر رکھتا ہوں، کیونکہ میں نے بنی نوع انسان کو تخلیق کرنے سے بہت پہلے ان کے دلوں کو اپنے ہاتھوں کی گرفت میں لے لیا تھا۔ میں نے بہت پہلے لوگوں کے دلوں کے اندر دیکھ لیا تھا، تو پھر ان کے خیالات میری نظر سے کیسے بچ سکتے ہیں؟ میری روح کے ذریعے جلائے جانے سے بچنے کے لیے ان کے لیے دیر کیسے نہیں ہو گئی ہے؟

تیرے ہونٹ فاختاؤں سے زیادہ مہربان ہیں لیکن تیرا دل اس پرانے سانپ سے بھی زیادہ شر انگیز ہے۔ تیرے ہونٹ لبنانی خواتین کی طرح خوبصورت ہیں، لیکن تیرا دل ان کے دلوں سے زیادہ مہربان نہیں ہے، اور اس کا موازنہ یقینی طور پر کنعانیوں کی خوبصورتی سے نہیں ہو سکتا۔ تیرا دل بہت دھوکے باز ہے! جن چیزوں سے میں نفرت کرتا ہوں وہ صرف ناراستبازوں کے ہونٹ اور ان کے دل ہیں، اور لوگوں سے میرے تقاضے اس سے بالکل بھی زیادہ نہیں ہیں جس کی میں برگزیدہ لوگوں سے توقع کرتا ہوں؛ یہ صرف اتنا ہے کہ میں ناراستبازوں کے برے کاموں سے نفرت محسوس کرتا ہوں، اور مجھے امید ہے کہ وہ اپنے غلیظ پن کو دور کرنے اور اپنی موجودہ بری صورتحال سے بچنے کے قابل ہو جائیں گے تاکہ وہ ان ناراستبازوں سے الگ ہو کر راستبازوں کے ساتھ زندگی گزار سکیں اور مقدس بن جائیں۔ تم میرے جیسے ہی حالات میں ہو، پھر بھی تم غلاظت میں لتھڑے ہوئے ہو؛ تم میں ابتدا میں تخلیق کیے گئے انسانوں کی ذرا سی اصل مشابہت بھی نہیں ہے۔ اس کے علاوہ، کیونکہ تم ہر روز ان ناپاک روحوں کی مشابہت کی نقل کرتے ہو، جو وہ کرتی ہیں تم کرتے ہو اور جو کہتی ہیں تم کہتے ہو، تمہارے تمام حصے – یہاں تک کہ تمہاری زبانیں اور ہونٹ بھی ان کے بدبودار پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ تم مکمل طور پر ایسے داغوں سے ڈھکے ہوئے ہو، اور تمہارا ایک حصہ بھی میرے کام کے لیے استعمال نہیں ہو سکتا ہے۔ یہ بہت دل توڑ دینے والا ہے! تم گھوڑوں اور مویشیوں کی ایسی دنیا میں رہتے ہو، پھر بھی تم درحقیقت پریشان نہیں ہوتے ہو؛ تم خوشی سے معمور ہو اور آزادی اور آسانی سے رہتے ہو۔ تم اس بدبودار پانی میں تیر رہے ہو، پھر بھی تمہیں حقیقت میں اس کا احساس ہی نہیں ہے کہ تم ایسی بری صورتحال میں گرفتار ہو چکے ہو۔ ہر روز، تم ناپاک روحوں کے ساتھ رفاقت کرتے ہو اور ”فُضلے“ کے ساتھ تعامل کرتے ہو۔ تمہاری زندگیاں کافی بے ہودہ ہیں، پھر بھی تو اصل میں اس بات سے واقف ہی نہیں ہے کہ تو انسانی دنیا میں بالکل بھی موجود نہیں ہے اور یہ کہ تو اپنے آپ پر قابو نہیں رکھتا ہے۔ کیا تو نہیں جانتا کہ تیری زندگی بہت پہلے ان ناپاک روحوں نے روند ڈالی تھی، یا یہ کہ تیرا کردار بہت پہلے بدبودار پانی سے داغدار ہو گیا تھا؟ کیا تجھے لگتا ہے کہ تو ایک زمینی جنت میں رہ رہا ہے، اور یہ کہ تو خوشی کے عالم میں ہے؟ کیا تو نہیں جانتا کہ تو نے ناپاک روحوں کے ساتھ زندگی بسر کی ہے، اور یہ کہ تو ہر اس چیز کے ساتھ موجود رہا ہے جو انہوں نے تیرے لیے تیار کی ہے؟ جس طرح تو زندگی بسر کرتا ہے اس کے کوئی معنی کیسے ہو سکتے ہیں؟ تری زندگی کی کوئی اہمیت کیسے ہوسکتی ہے؟ تو اپنے والدین، ناپاک روحوں کے والدین کے لیے بھاگ دوڑ کرتا رہا ہے، پھر بھی تجھے حقیقت میں اندازہ ہی نہیں ہے کہ تجھے پھنسانے والے وہ ناپاک روحوں کے والدین ہیں جنہوں نے تجھے جنم دیا اور پالا ہے۔ مزید یہ کہ، تجھے علم ہی نہیں ہے کہ تیری تمام غلاظت دراصل ان کی طرف سے تجھے دی گئی تھی؛ تو صرف اتنا جانتا ہے کہ وہ تجھے ”لطف“ دے سکتے ہیں، وہ تجھے سزا نہیں دیتے، نہ ہی وہ تیرا فیصلہ کرتے ہیں، اور وہ خاص طور پر تجھ پر لعنت نہیں بھیجتے ہیں۔ انہوں نے کبھی تجھ پر بہت زیادہ غصہ نہیں کیا ہے بلکہ تیرے ساتھ پیار اور مہربانی والا سلوک کرتے ہیں۔ ان کی باتیں تیرے دل کو پروان چڑھاتی ہیں اور تجھے اس طرح مسحور کرتی ہیں کہ تو بدحواسی کا شکار ہو جاتا ہے اور اس کا احساس کیے بغیر تو ان کی خدمت کے لیے گھیر لیا جاتا ہے اور ان کے لیے مخرج اور خدمت گار بن جاتا ہے۔ تجھے قطعاً کوئی شکایت نہیں ہے بلکہ تو ان کے لیے کتوں، گھوڑوں کی طرح کام کرنے کو تیار ہے۔ تو ان سے دھوکا کھا رہا ہے۔ اس وجہ سے، جو کام میں کرتا ہوں، تیرا اس پر قطعاً کوئی ردعمل نہیں ہوتا ہے۔ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ تو ہمیشہ چپکے سے میری انگلیوں سے پھسل کر نکلنا چاہتا ہے، اور کوئی تعجب کی بات نہیں ہے کہ تو دھوکے سے میرا احسان حاصل کرنے کے لیے ہمیشہ میٹھے الفاظ کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔ جیسے کہ پتہ چلتا ہے کہ تیرے پاس پہلے سے ہی ایک اور منصوبہ تھا، ایک اور انتظام تھا۔ تو قادرِمطلق کے طور پر میرے اعمال کا بہت تھوڑا سا حصہ دیکھ سکتا ہے، لیکن تجھے میرے فیصلے اور سزا کا ذرا سا علم بھی نہیں ہے۔ تجھے کچھ اندازہ نہیں ہے کہ کب میری سزا شروع ہوئی؛ تجھے صرف مجھے دھوکا دینا آتا ہے – ابھی تک تجھے علم نہیں ہے کہ میں انسان کی طرف سے کسی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کروں گا۔ چونکہ تو پہلے ہی میری خدمت کرنے کا عزم کر چکا ہے، اس لیے میں تجھے جانے نہیں دوں گا۔ میں سرکشی کو معاف نہ کرنے والا خدا ہوں، اور میں ایک ایسا خدا ہوں جو انسانیت کے بارے میں حساس ہے۔ چونکہ تو اپنے الفاظ پہلے ہی قربان گاہ پر رکھ چکا ہے، اس لیے میں اپنی ان آنکھوں کے سامنے تیرا بھاگنا برداشت نہیں کروں گا اور نہ ہی میں تیرے دو مالکوں کی خدمت کرنے کو برداشت کروں گا۔ کیا تو یہ سمجھتا ہے کہ میری قربان گاہ پر اور میری آنکھوں کے سامنے اپنے الفاظ رکھنے کے بعد تو دوسری محبت تلاش کر سکتا ہے؟ میں لوگوں کو کیسے اجازت دے سکتا ہوں کہ وہ مجھے اس طرح بے وقوف بنائیں؟ کیا تیرا یہ خیال تھا کہ تو سرسری انداز میں اپنی زبان سے مجھ سے قسمیں کھا سکتا ہے اور وعدے کر سکتا ہے؟ تو میرے تخت کے پاس کیسے وعدے کر سکتا ہے، میرا تخت، میں جو سب سے اعلیٰ ہوں؟ کیا تیرا خیال تھا کہ تیرے وعدے ختم ہو چکے ہیں؟ میں تمہیں بتاتا ہوں: اگرچہ تمہارا جسم ختم ہوسکتا ہے، تمہارے وعدے ختم نہیں ہوسکتے۔ آخر میں، میں تمہارے وعدوں کی بنیاد پر تمہاری مذمت کروں گا۔ تاہم، تم یہ یقین رکھتے ہو کہ تم اپنے الفاظ میرے سامنے رکھ کر میرے ساتھ معاملہ کر سکتے ہو، اور یہ کہ تمہارےے دل ناپاک روحوں اور بدروحوں کی خدمت کر سکتے ہیں۔ میرا غضب ان کتے جیسے، سور جیسے لوگوں کو کیسے برداشت کر سکتا ہے جو مجھے دھوکا دیتے ہیں؟ مجھے اپنے انتظامی احکام پر لازمی عمل کرنا چاہیے، اور ناپاک روحوں کے ہاتھوں سے ان تمام دقیانوسی، ”متقی“ لوگوں کو واپس چھین لینا چاہیے جو مجھ پر ایمان رکھتے ہیں تاکہ وہ نظم و ضبط کے ساتھ میرا ”انتظار“ کریں، میرے بیل بنیں، میرے گھوڑے بنیں، اور میرے ذبح کرنے کے رحم و کرم پر رہیں۔ میں تجھ سے تیرے سابقہ عزم کو دوبارہ جگانے اور ایک بار پھر اپنی خدمت کرنے کے لیے کہوں گا۔ میں کسی ایسی مخلوق کو برداشت نہیں کروں گا جو مجھے دھوکا دیتی ہے۔ تیرا کیا خیال تھا کہ تو میرے سامنے محض بلا روک ٹوک درخواستیں کر سکتا ہے اور جھوٹ بول سکتا ہے؟ تیرا کیا خیال تھا کہ میں نے تیرے قول و فعل کو نہیں سنا اور نہ ہی دیکھا؟ تیرے قول و فعل میری نظر میں کیسے نہیں ہو سکتے؟ میں لوگوں کو کیسے اجازت دے سکتا ہوں کہ اس طرح مجھے دھوکا دیں؟

میں تمہاے درمیان رہا ہوں، تمہارے ساتھ کئی بہاروں اور خزاؤں میں شریک رہا ہوں؛ میں ایک طویل عرصے تک تمہارے درمیان رہا ہوں، اور تمہارے ساتھ زندگی بسر کی ہے۔ تمہارا کتنا قابلِ نفرت سلوک میری ان آنکھوں کے سامنے سے پھسل گیا ہے؟ تمہارے وہ پُرخلوص الفاظ میرے کانوں میں مسلسل گونج رہے ہیں؛ تمہاری لاکھوں اور کروڑوں خواہشات میری قربان گاہ پر رکھی گئی ہیں، اتنی زیادہ کہ جن کا شمار تک نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، جہاں تک تمہارے وقف ہونے اور تمہارے خرچ کرنے کی بات ہے، تم ایک ذرہ بھی نہیں دیتے ہو۔ تم میری قربان گاہ پر اخلاص کا ایک قطرہ تک نہیں رکھتے ہو۔ مجھ پر تمہارے ایمان کے ثمرات کہاں ہیں؟ تم میری طرف سے لامتناہی فضل وصول کر چکے ہو، اور تم نے آسمان سے لامتناہی اسرار دیکھے ہیں۔ میں نے تمہیں آسمان کے شعلے تک دکھائے ہیں لیکن میرا دل اتنا سخت نہیں تھا کہ تمہیں جلا ڈالتا۔ بہر حال، تم نے بدلے میں مجھے کتنا دیا ہے؟ تم مجھے کتنا دینے کے لیے تیار ہو؟ جو کھانا میں نے تیرے ہاتھ میں دیا ہے، تو پلٹ کر وہی مجھے پیش کرتا ہے، یہ کہنے کی حد تک چلا جاتا ہے کہ یہ وہ ہے جو تجھے تیری محنت کے پسینے کے صلے میں ملا ہے اور تو مجھے وہ سب کچھ پیش کر رہا ہے جو تیری ملکیت ہے۔ تو کیسے نہیں جان سکتا کہ میرے لیے تیرے ”عطیات“ صرف وہ چیزیں ہیں جو میری ہی قربان گاہ سے چرائی گئی ہیں؟ مزید یہ کہ اب تو وہ مجھے پیش کر رہا ہے، کیا تو مجھے دھوکا نہیں دے رہا ہے؟ تو کیسے نہیں جان سکتا کہ آج میں جن چیزوں سے لطف اندوز ہوتا ہوں وہ سب میری قربان گاہ پر نذر کی گئی ہیں اور یہ وہ نہیں ہیں جو تو نے اپنی محنت سے کمائی ہیں اور پھر مجھے پیش کی ہیں؟ دراصل تم مجھے اس طرح دھوکہ دینے کی ہمت کرتے ہو، تو میں تمہیں کیسے معاف کر سکتا ہوں؟ تم مجھ سے مزید یہ برداشت کرنے کی توقع کیسے کر سکتے ہو؟ میں نے تمہیں سب کچھ دیا ہے۔ میں نے سب کچھ تمہارے لیے کھول دیا ہے، تمہاری ضروریات کے لیے فراہم کر دیا ہے، اور تمہاری آنکھیں کھول دی ہیں، پھر بھی تم اپنے ضمیر کو نظر انداز کرتے ہوئے مجھے اس طرح دھوکا دے رہے ہو۔ میں نے بے لوث ہو کر سب کچھ تمہیں عطا کیا ہے، تاکہ اگرچہ تم نے تکلیف برداشت کی ہے مگر اس کے باوجود تم نے مجھ سے وہ سب کچھ حاصل کیا ہے جو میں آسمان سے لایا ہوں۔ اس کے باوجود، تم میں قطعاً کوئی جوش وخروش نہیں ہے، اور یہاں تک کہ اگر تم نے تھوڑا سا عطیہ دیا ہے، تو تم بعد میں میرے ساتھ ”حساب برابر“ کرنے کی کوشش کرتے ہو۔ کیا تمہارا عطیہ بے معنی نہیں ہوگا؟ جو کچھ تم نے مجھے دیا ہے وہ محض ریت کا ایک ذرہ ہے مگر مجھ سے جو تم نے مانگا ہے وہ ایک ٹن سونا ہے۔ کیا تم بہت غیر معقول نہیں ہو؟ میں تمہارے درمیان کام کرتا ہوں۔ مجھے جو دس فیصد دیا جانا چاہیے اس کا قطعاً کوئی سراغ نہیں ہے، کسی اضافی قربانی کی تو بات ہی نہ کرو۔ مزید برآں، وہ دس فیصد جو متقی لوگ دیتے ہیں، اسے خبیث لوگ ضبط کر لیتے ہیں۔ کیا تم سب مجھ سے دُور دُور نہیں ہو؟ کیا تم سب میرے مخالف نہیں ہو؟ کیا تم سب میری قربان گاہ کو تباہ نہیں کر رہے ہو؟ ایسے لوگ میری نظر میں قیمتی ہونے کے طور پر کیسے دیکھے جا سکتے ہیں؟ کیا وہ سور اور کتے نہیں ہیں جن سے میں نفرت کرتا ہوں؟ میں تمہارے برے کاموں کو قیمتی کیسے کہہ سکتا ہوں؟ میرا کام دراصل کس کے لیے کیا جاتا ہے؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ اس کا مقصد صرف اپنے اختیار کو ظاہر کرنے کے لیے تمہیں گرانا ہو؟ کیا تمہاری تمام زندگیوں کا مکمل دارومدار میرے ایک لفظ پر نہیں ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ میں تمہیں ہدایت دینے کے لیے صرف کلام کا استعمال کر رہا ہوں، اور میں نے جتنی جلدی ہو سکتا تھا، تمہیں مار گرانے کے لیے الفاظ کو حقائق میں تبدیل نہیں کیا ہے؟ کیا میرے کلام اور کام کا مقصد محض انسانیت کو مار گرانا ہے؟ کیا میں ایسا خدا ہوں جو بے گناہوں کو بلاامتیاز قتل کرتا ہے؟ اس وقت تم میں سے کتنے لوگ اپنے پورے وجود کے ساتھ انسانی زندگی کے درست راستے کو تلاش کرنے کے لیے میرے سامنے آ رہے ہیں؟ یہ صرف تمہارے جسم ہیں جو میرے سامنے ہیں؛ تمہارے دل ابھی بھی آزاد ہیں، اور مجھ سے بہت دور ہیں۔ چونکہ تمہیں علم نہیں ہے کہ اصل میں میرا کام کیا ہے، اس لیے تم میں سے بہت سے ایسے ہیں جو مجھ سے جدا ہونا چاہتے ہیں اور خود کو مجھ سے دور رکھنا چاہتے ہیں اور اس کی بجائے اس جنت میں رہنے کی امید کرتے ہیں جہاں کوئی سزا یا فیصلہ نہیں ہے۔ کیا لوگوں کے دلوں میں یہی خواہش نہیں ہے؟ میں یقیناً تجھے مجبور کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہوں۔ تو جو بھی راستہ اختیار کرتا ہے وہ تیرا اپنا انتخاب ہے۔ آج کا راستہ وہ ہے جس پر فیصلہ اور لعنتیں ہیں، لیکن تم سب کو معلوم ہونا چاہیے کہ میں نے جو کچھ بھی تمہیں عطا کیا ہے – چاہے وہ فیصلے ہوں یا سزائیں – وہ بہترین تحفے ہیں جو میں تمہیں عطا کر سکتا ہوں، اور یہ وہ سب چیزیں ہیں جن کی تمہیں فوری ضرورت ہے۔

سابقہ: انجیل پھیلانے کا کام بھی انسان کو بچانے کا کام ہے

اگلا: شریعت کے دور میں کام

خدا کے بغیر ایام میں، زندگی اندھیرے اور درد سے بھر جاتی ہے۔ کیا آپ خدا کے قریب جانے اور اس سے خوشی اور سکون حاصل کرنے کے لیے خُدا کے الفاظ سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟

تنظیمات

  • متن
  • تھیمز

گہرے رنگ

تھیمز

فونٹس

فونٹ کا سائز

سطور کا درمیانی فاصلہ

سطور کا درمیانی فاصلہ

صفحے کی چوڑائی

مندرجات

تلاش کریں

  • اس متن میں تلاش کریں
  • اس کتاب میں تلاش کریں

کے ذریعے ہم سے رابطہ کریں WhatsApp