صرف آخری ایام کا مسیح ہی انسان کو ابدی زندگی کا راستہ دے سکتا ہے

زندگی کا راستہ ایسی چیز نہیں ہے جس کا کوئی بھی حامل ہوسکتا ہو، اور نہ ہی یہ ایسی چیز ہے جسے کوئی بھی آسانی سے حاصل کر سکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زندگی صرف خدا کی طرف سے مل سکتی ہے، یعنی زندگی کا جوہر بھی صرف خدا کے پاس ہے اور زندگی کا راستہ بھی صرف خدا ہی کے پاس ہے۔ اور اس طرح صرف خدا ہی زندگی کا سرچشمہ ہے اور آبِ حیات کا ہمیشہ بہنے والا چشمہ ہے۔ جب سے خدا نے دنیا تخلیق کی ہے، تب سے اس نے قوتِ حیات شامل کرتے ہوئے بہت سے کام کیے ہیں، ایسے بہت سے کام کیے ہیں جو انسان کو زندگی بخشتے ہیں، اور اس کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے تا کہ انسان زندگی حاصل کر سکے۔ یہ اس لیے ہے کہ خدا بذاتِ خود ابدی زندگی ہے، اور خدا خود ہی وہ راستہ ہے جس کے ذریعے انسان دوبارہ جی اٹھتا ہے۔ خدا انسان کے دل سے کبھی غیر حاضر نہیں ہوتا اور وہ ہر وقت اس کے اندر رہتا ہے۔ وہ انسان کی زندگی کا محرک، انسان کے وجود کی بنیاد اور پیدائش کے بعد انسان کے وجود کے لیے ایک بھرپور ذخیرہ ہے۔ وہ انسان کے دوبارہ جنم کا سبب بنتا ہے اور اسے اپنے ہر کردار میں مضبوطی سے قائم رہنے کے قابل بناتا ہے۔ اس کی قدرت اور اس کی لافانی قوتِ حیات کی بدولت انسان نسل درنسل زندہ رہا ہے، جس کے دوران خدا کی زندگی کی قوت ہی انسان کے وجود کی اصل بنیاد رہی ہے اور خدا نے وہ قیمت ادا کی ہے جو کسی عام انسان نے ادا نہیں کی۔ خدا کی زندگی کی قوت، کسی بھی طاقت پر غلبہ پا سکتی ہے۔ مزید برآں، یہ کسی بھی قوت سے بالاتر ہے۔ اس کی زندگی دائمی، اس کی قوت غیر معمولی، اور اس کی زندگی کی قوت کسی بھی تخلیق کردہ وجود یا دشمن قوت سے مغلوب نہیں ہو سکتی۔ خدا کی زندگی کی قوت موجود ہے، اور وقت اور جگہ سے قطع نظر اپنی شاندار چمک ظاہر کرتی ہے۔ آسمان اور زمین بڑی تبدیلیوں سے گزر سکتے ہیں، لیکن خدا کی زندگی ہمیشہ یکساں رہتی ہے۔ تمام چیزیں ختم ہوسکتی ہیں لیکن خدا کی زندگی تب بھی باقی رہے گی، کیونکہ خدا تمام چیزوں کے وجود کا سرچشمہ اور ان کے وجود کی بنیاد ہے۔ انسان کی زندگی کی بنیاد خدا ہے، آسمان کے وجود کا سبب خدا ہے اور زمین کا وجود خدا کی قوت ِحیات سے ہے۔ قوتِ حیات رکھنے والی کوئی بھی چیز خدا کی حاکمیت سے بالاتر نہیں ہو سکتی اور کوئی بھی چیز اپنے زور کے بل پر خدا کے اختیار کے دائرے سے باہر نہیں ہو سکتی۔ اس طرح، خواہ وہ کوئی بھی ہو، سبھی کو خدا کی حاکمیت تسلیم کرنی چاہیے، ہر کسی کو خدا کے حکم کے مطابق رہنا چاہیے اور اس کی گرفت سے کوئی فرار نہیں ہو سکتا۔

شاید اب تیری خواہش زندگی حاصل کرنا ہے، یا شاید تُو سچائی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ کچھ بھی ہو، تُو خدا کو تلاش کرنا چاہتا ہے، اس خدا کو تلاش کرنا چاہتا ہے جس پر تُو بھروسا کر سکے اور جو تجھے ابدی زندگی فراہم کر سکتا ہے۔ اگر تُو ابدی زندگی حاصل کرنا چاہتا ہے تو تجھے سب سے پہلے ابدی زندگی کے ماخذ کو سمجھنا چاہیے اور پہلے یہ جاننا چاہیے کہ خدا کہاں ہے۔ میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ صرف خدا ہی ناقابل تغیر زندگی ہے اور زندگی کا راستہ صرف خدا کے پاس ہے۔ چونکہ خدا ہی ناقابل تغیر زندگی ہے، اسی لیے وہ ابدی زندگی ہے۔ چونکہ صرف خدا ہی زندگی کا راستہ ہے، اسی لیے خدا خود ابدی زندگی کا راستہ ہے۔ اس طرح، تجھے پہلے سمجھنا چاہیے کہ خدا کہاں ہے، اور ابدی زندگی کا یہ راستہ کیسے حاصل کیا جائے۔ آ اب ہم مل کر یہ دونوں معاملات الگ الگ سمجھتے ہیں۔

اگر تُو واقعی ابدی زندگی کا راستہ حاصل کرنا چاہتا ہے، اور اگر تُو اس کی تلاش کے لیے کوشاں ہے تو پہلے اس سوال کا جواب دے: آج خدا کہاں ہے؟ شاید تُو جواب دے کہ "خدا آسمان پر رہتا ہے، بلاشبہ – وہ تیرے گھر میں نہیں رہے گا، ہے نا؟" شاید تُو کہے کہ بلاشبہ خدا ہر چیز میں رہتا ہے۔ یا تُو کہہ سکتا ہے کہ خدا ہر شخص کے دل میں رہتا ہے، یا یہ کہ خدا روحانی دنیا میں ہے۔ میں اس میں سے کسی چیز کو مسترد نہیں کرتا لیکن میرے لیے اس مسئلے کی وضاحت ضروری ہے۔ یہ کہنا مکمل طور پر درست نہیں ہے کہ خدا انسان کے دل میں رہتا ہے، لیکن یہ مکمل غلط بھی نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا کو ماننے والوں میں ایسے لوگ شامل ہیں جن میں کچھ کا عقیدہ سچا اور کچھ کا عقیدہ باطل ہے، کچھ ایسے ہیں جن سے خدا راضی ہے اور کچھ وہ ہیں جنھیں وہ ناپسند کرتا ہے، کچھ وہ ہیں جن سے وہ خوش ہے اور کچھ وہ ہیں جن سے وہ ناخوش ہے، کچھ وہ ہیں جنھیں وہ کامل بناتا ہے اور کچھ وہ لوگ ہیں جنھیں وہ نکال باہر کرتا ہے۔ اور اسی لیے میں کہتا ہوں کہ خدا صرف کچھ لوگوں کے دلوں میں رہتا ہے، اور بلاشبہ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا پر سچا ایمان رکھتے ہیں، جنھیں خدا پسند کرتا ہے، جو اسے خوش رکھتے ہیں اور جنھیں وہ کامل بناتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی راہنمائی خدا کرتا ہے۔ چونکہ خدا ان کی راہنمائی کرتا ہے، تو یہ وہ لوگ ہیں جو پہلے ہی خدا کی ابدی زندگی کے راستے کو سن اور دیکھ چکے ہیں۔ وہ لوگ جن کا خدا پر عقیدہ باطل ہے، جنھیں خدا قبول نہیں کرتا، جن سے خدا نفرت کرتا ہے، جنھیں خدا نکال باہر کرتا ہے – لازمی ہے کہ خدا انہیں مسترد کر دے، وہ زندگی کے راستے کے بغیر رہنے کے پابند ہیں، اور لازمی ہے کہ وہ یہ جاننے سے محروم رہیں کہ خدا کہاں ہے۔ اس کے برعکس، جن کے دلوں میں خدا رہتا ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ کہاں ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنھیں خدا ابدی زندگی کا راستہ عطا کرتا ہے اور یہ وہی لوگ ہیں جو خدا کی پیروی کرنے والے ہیں۔ اب کیا تجھے معلوم ہے کہ خدا کہاں ہے؟ خدا انسان کے دل میں بھی ہے اور انسان کے پہلو میں بھی۔ وہ صرف روحانی دنیا میں نہیں ہے، اور ہر چیز سے بالاتر ہے، بلکہ اس سے زیادہ اس زمین پر بھی ہے جس پر انسان بستا ہے۔ اور اس طرح آخری ایام کی آمد خدا کے کام کے مراحل کو ایک نئے علاقے میں لے گئی ہے۔ سب چیزوں میں خدا ہر چیز پر حاکمیت رکھتا ہے، اور وہ انسان کے دل میں اس کا ستون ہے، نیز وہ انسان کے درمیان موجود ہے۔ صرف اسی طریقے سے وہ بنی نوع انسان کو زندگی کا راستہ دکھا سکتا ہے اور انسان کو زندگی کی راہ پر لا سکتا ہے۔ خدا زمین پر آچکا ہے اور انسان کے درمیان رہتا ہے تا کہ انسان زندگی گزارنے کا طریقہ حاصل کر سکے، اور تاکہ انسان باقی رہ سکے۔ اس کے ساتھ ہی، خدا تمام چیزوں میں ہر چیز کو اس انتظام میں معاونتی سہولت کا حکم بھی دیتا ہے جو وہ انسانوں کے مابین کرتا ہے۔ اور اس طرح، اگر تُو صرف یہ عقیدہ تسلیم کرتا ہے کہ خدا آسمان میں اور انسان کے دل میں ہے، لیکن پھر بھی انسان کے مابین خدا کے وجود کی حقیقت تسلیم نہیں کرتا، تو تجھے کبھی زندگی نہیں ملے گی، اور نہ ہی کبھی سچائی کا راستہ مل سکے گا۔

خدا خود زندگی اور سچائی ہے، اور اس کی زندگی اور سچائی ایک ساتھ وجود رکھتے ہیں۔ جو لوگ سچائی حاصل کرنے سے قاصر ہیں وہ کبھی زندگی حاصل نہیں کر سکتے۔ سچائی کی راہنمائی، حمایت اور فراہمی کے بغیر، تجھے صرف حروف، عقائد اور سب سے بڑھ کر موت ملے گی۔ خدا کی زندگی ابد سے موجود ہے، اور اس کی سچائی اور زندگی ایک ساتھ وجود رکھتے ہیں۔ اگر تُو سچائی کا ماخذ تلاش نہیں کر سکتا، تو تُو زندگی کی غذائیت حاصل نہیں کر سکے گا؛ اگر تُو زندگی کی رسد حاصل نہیں کر سکتا تو بلاشبہ تجھے اس سے کوئی سچائی نہیں ملے گی، اور اس لیے تخیلات اور تصورات کے علاوہ تیرا پورا جسم صرف تیرے گوشت پر ہی مشتمل ہو گا – بدبودار گوشت۔ جان لے کہ کتابوں کے الفاظ کو زندگی نہیں سمجھا جا سکتا، تاریخ کے مندرجات کی بطور سچ پرستش نہیں کی جا سکتی اور ماضی کے ضابطے خدا کے اب کہے جانے والے کلام کے حوالے کے طور پر استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ جب خدا زمین پر آتا ہے اور انسانوں کے درمیان رہتا ہے تو جو خدا کی طرف سے ظاہر ہوتا ہے، صرف وہی سچائی، زندگی، خدا کی منشا اور اس کے کام کا موجودہ طریقہ کار ہے۔ اگر تُو ماضی سے آج تک خدا کے کہے گئے کلام کے مندرجات لاگو کرتا ہے، تو یہ تجھے آثار قدیمہ کا ماہر بناتا ہے، اور تیرا بہترین تعارف تاریخی ورثے کے ماہر کے طور پر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تُو ہمیشہ اس کام کے آثار پر یقین رکھتا ہے جو خدا نے ماضی میں کیا تھا، صرف خدا کے اس سائے پر یقین رکھتا ہے جو اس نے پہلے انسانوں کے درمیان کام کرتے ہوئے چھوڑا تھا، اور صرف اس راستے پر یقین رکھتا ہے ہو جو خدا نے پچھلے ادوار میں اپنے پیروکاروں کو دیا تھا۔ تُو خدا کے آج کے کام کی سمت پر یقین نہیں رکھتا، اور خدا کے آج کے پُرجلال چہرے پر یقین نہیں رکھتا، اور خدا کی طرف سے اظہار کردہ موجودہ سچائی کی راہ پر یقین نہیں رکھتا۔ اور اس طرح تُو بلاتردید دن میں خواب دیکھنے والا ہے جو حقیقت سے یکسر دور ہے۔ اگر تُو اب بھی ایسے الفاظ سے چمٹا ہوا ہے جو انسان کو زندگی دینے سے قاصر ہیں، تو تُو مردہ لکڑی کا ایک بے کار ٹکڑا ہے،[ا] کیونکہ تُو بہت قدامت پرست، بہت خود سر، عقل سے بالکل عاری ہے۔

خدا کا مجسم ہونا مسیح کہلاتا ہے اور اس لیے وہ مسیح جو لوگوں کو سچی راہ دے سکتا ہے وہ خدا کہلاتا ہے۔ اس میں کوئی مبالغہ نہیں ہے کیونکہ وہ خدا کے جوہر کا مالک ہے اور وہ خدا کے مزاج اور کام میں اس کی ایسی حکمت رکھتا ہے، جو کوئی انسان حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ جو اپنے آپ کو مسیح کہتے ہیں اور پھر بھی خدا کا کام نہیں کر سکتے، دھوکے باز ہیں۔ مسیح دنیا میں خدا کا صرف مظہر نہیں ہے بلکہ وہ مخصوص جسم ہے جو خدا انسانوں کے درمیان اپنا کام کرنے اور اسے کامل کرنے کے لیے اختیار کرتا ہے۔ اس جسم کی جگہ کوئی انسان نہیں لے سکتا بلکہ یہ ایسا جسم ہے جو زمین پر خدا کے کام کا بوجھ مناسب طور پر اٹھا سکتا ہے، خدا کے مزاج کا اظہار کرسکتا ہے، خدا کی بہتر نمائندگی کرسکتا ہے اور انسان کو زندگی فراہم کر سکتا ہے۔ جلد یا بدیر، مسیح کا بہروپ بھرنے والے سبھی لوگ زوال پذیر ہوں گے کیونکہ اگرچہ وہ مسیح ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تاہم وہ مسیح کا کوئی جوہر نہیں رکھتے اور میں یہ بھی کہتا ہوں کہ مسیح کی صداقت کی انسان وضاحت نہیں کر سکتا بلکہ خدا خود اس کا فیصلہ کرتا ہے۔ اس طرح، اگر تُو واقعی زندگی کی راہ تلاش کرنا چاہتا ہے تو سب سے پہلے تجھے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ خدا زمین پر آ کر انسان کو زندگی گزارنے کا طریقہ عطا کرنے کا کام انجام دیتا ہے اور تجھے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ آخری دور میں وہ زمین پر انسان کو زندگی کا راستہ عطا کرنے کے لیے آئے گا۔ یہ ماضی نہیں ہے؛ یہ آج ہو رہا ہے۔

آخری دور کا مسیح زندگی لائے گا اور سچائی کا دیرپا اور جاوداں راستہ لائے گا۔ یہ وہ سچا راستہ ہے جس سے انسان زندگی حاصل کرتا ہے اور یہی واحد راستہ ہے جس کے ذریعے انسان خدا کو جانے گا اور اس سے توثیق پائے گا۔ اگر تُو آخری ایام کے مسیح کے فراہم کردہ زندگی کے راستے کی جستجو نہیں کرتا تو تجھے کبھی یسوع کی تائید حاصل نہیں ہو سکے گی اور تُو آسمانوں کی بادشاہی کے دروازے سے داخل ہونے کا کبھی اہل نہیں ہو پائے گا، کیونکہ تُو صرف ایک کٹھ پتلی اور تاریخ کا قیدی رہے گا۔ جو لوگ ضابطوں، حروف، اور تاریخ کی زنجیروں میں جکڑے جاتے ہیں، وہ کبھی زندگی حاصل نہ کر پائیں گے اور نہ ہی دائمی زندگی کا راستہ حاصل کر سکیں گے۔ یہ اس وجہ سے ہے کیونکہ ان کے پاس صرف وہ گدلا پانی ہے جو ہزاروں سال سے رکا ہوا ہے، وہ زندگی کا پانی نہیں ہے جو تخت سے بہتا ہے۔ جن تک زندگی کا پانی نہیں پہنچتا، وہ ہمیشہ لاشیں، شیطان کے کھلونے اور دوزخ کے بیٹے رہیں گے۔ پھر وہ خدا کو کیسے دیکھ سکیں گے؟ اگر تُو صرف ماضی سے جڑے رہنے کی کوشش کرتا ہے، صرف جامد رہ کر چیزوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے اور جمود تبدیل کرنے اور تاریخ کو ترک کرنے کی کوشش نہیں کرتا، تو کیا تُو ہمیشہ خدا کے خلاف نہیں رہے گا؟ خدا کے کام کے مراحل بہت پھیلے ہوئے اور زبردست ہیں، جیسے لہریں اور گرجتی بجلی – پھر بھی تُو بس بیٹھ کر کاہلی سے تباہی کا انتظار کرتا ہے، اپنی حماقت سے چمٹا ہوا ہے اور کچھ نہیں کر رہا ہے۔ اس طرح، تُو کچھ ایسا کیسے بن سکتا ہے جو برّے کے نقش قدم پر چلے؟ تُو جس خدا کو خدا کے طور پر دیکھتا ہے، اس کا جواز کیسے پیش کرے گا جوہمیشہ نیا اور کبھی پرانا نہیں ہوتا؟ اور تیری خستہ حال کتابوں کے الفاظ تجھے نئے دور میں کیسے لے کر جا سکتے ہیں؟ وہ خدا کے کاموں کے نقش قدم کی جستجو کی طرف تیری راہنمائی کیسے کر سکتے ہیں؟ اور وہ تجھے جنت میں کیسے لے کر جائیں گے؟ تیرے ہاتھوں میں جو لغوی الفاظ ہیں، وہ عارضی سکون تو فراہم کر سکتے ہیں، لیکن زندگی کا راستہ فراہم کرنے والی سچائیاں فراہم نہیں کر سکتے۔ تُو جو صحیفے پڑھتا ہے وہ صرف تیری زبان کو تقویت دے سکتے ہیں اور وہ فلسفے کے الفاظ نہیں ہیں جو تجھے انسانی زندگی کے متعلق جاننے میں مدد دے سکیں، نہ ہی وہ راستے جو تجھے کمال کی طرف لے جا سکتے ہیں۔ کیا یہ نقص تجھے غور و فکر کی بنیاد فراہم نہیں کرتا؟ کیا یہ تجھے اندر موجود رازوں کا ادراک نہیں دیتا؟ کیا تُو اپنے طور پر خدا سے ملنے کے لیے جنت میں جانے کے قابل ہے؟ خدا کی آمد کے بغیر، کیا تُو خدا کے ساتھ خاندان والی خوشیوں سے لطف اندوز ہونے کے لیے خود کو جنت میں لے جا سکتا ہے؟ کیا تُو اب بھی محو خواب ہے؟ پھر میری تجویز ہے کہ تُو خواب دیکھنا چھوڑ دے اور یہ دیکھ کہ اب کون کام کر رہا ہے – دیکھ کہ آخری دور میں انسان کو بچانے کا کام کون کر رہا ہے۔ اگر تُو ایسا نہیں کرتا تو تُو کبھی سچائی تک نہیں پہنچ سکتا اور کبھی زندگی حاصل نہیں کر سکتا۔

جو لوگ مسیح کی طرف سے کہی گئی سچائی پر بھروسا کیے بغیر زندگی حاصل کرنا چاہتے ہیں، وہ دنیا میں سب سے زیادہ مضحکہ خیز لوگ ہیں اور جو لوگ مسیح کا لایا ہوا زندگی کا راستہ قبول نہیں کرتے وہ تصورات میں کھو جاتے ہیں اور اسی لیے میں کہتا ہوں کہ جو آخری دور کے مسیح کو قبول نہیں کرتے خدا ان سے ہمیشہ نفرت کرے گا۔ آخری دور میں مسیح بادشاہی کا دروازہ ہے اور اسے کوئی بھی نظر انداز کر کے آگے نہیں جا سکتا۔ خدا صرف مسیح کے ذریعے ہی کمال بخشے گا۔ تُو خدا پر یقین رکھتا ہے اور اس لیے تجھے اس کا کلام قبول کرنا چاہیے اور اس کے طریقے کی اطاعت کرنی چاہیے۔ تُو فقط برکت کے حصول کا تصور نہیں کر سکتا جب تک تُو سچائی اور زندگی کی فراہمی قبول کرنے کے قابل نہ ہو۔ مسیح آخری ایام میں آئے گا تاکہ وہ سب جو دل سے اس پر یقین رکھتے ہیں انھیں زندگی دی جا سکے۔ اس کا کام پرانے دور کو ختم کرنا اور نئے دور میں داخل ہونا ہے اور اس کا کام وہ راستہ ہے جو ان تمام لوگوں کو اختیار کرنا چاہیے جو نئے دور میں داخل ہوں گے۔ اگر تُو اسے تسلیم کرنے کے قابل نہیں ہے اور اس کی بجائے اس کی مذمت کرتا ہے، توہین کرتا ہے، یا حتیٰ کہ اسے ستاتا ہے تو تُو ہمیشہ کے لیے جہنم میں جلے گا اور خدا کی بادشاہی میں کبھی داخل نہیں ہو پائے گا کیونکہ یہ مسیح خود روح القدس اور خدا کا اظہار ہے، جسے خدا نے زمین پر اپنا کام کرنے کے لیے مقرر کیا ہے اور اس لیے میں کہتا ہوں کہ اگر تُو آخری ایام کے مسیح کی طرف سے کیے گئے تمام کام قبول نہیں کر سکتا تو تُو روح القدس کی توہین کرتا ہے۔ روح القدس کی توہین کرنے والوں سے جو بدلہ لیا جائے گا وہ سب پر واضح ہے۔ میں تجھ سے یہ بھی کہتا ہوں کہ اگر تُو آخری ایام کے مسیح کی مخالفت کرے گا، اگر تُو آخری دور کے مسیح کو مسترد کرے گا، تو تیری طرف سے اس کے نتائج کوئی اور برداشت نہیں کرے گا۔ مزید برآں، اس دن سے تجھے خدا کی منشا حاصل کرنے کا ایک اور موقع نہیں ملے گا؛ خواہ تُو توبہ کرنے کی کوشش کرے، تب بھی تُو خدا کا چہرہ نہیں دیکھ پائے گا کیونکہ تُو جس کی مخالفت کرے گا وہ کوئی انسان نہیں ہے جسے تُو ٹھکرا رہا ہے وہ کوئی عام فرد نہیں ہے بلکہ مسیح ہے۔ کیا تجھے معلوم ہے کہ اس کے نتائج کیا ہو سکتے ہیں؟ تُو نے کوئی معمولی غلطی نہیں کی ہوگی بلکہ ایک بہت بڑا جرم کیا ہوگا اور اس لیے میں سب کو نصیحت کرتا ہوں کہ سچائی پر تنقید، یا بے جا تنقید نہ کر کیونکہ صرف سچ ہی تجھے زندگی بخش سکتا ہے اور سچائی کے سوا کوئی اور چیز تجھے دوبارہ جنم لینے اور خدا کے چہرے کا مشاہدہ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتی۔

حاشیہ:

ا۔ بے جان لکڑی کا ٹکڑا: ایک چینی محاورہ جس کا مطلب ہے "ناقابل بہتری۔"

سابقہ: کیا تجھے معلوم ہے؟ خدا نے انسانوں میں عظیم چیز کی ہے

اگلا: اپنی منزل کے لیے کافی بہتر اعمال تیار کرو

خدا کے بغیر ایام میں، زندگی اندھیرے اور درد سے بھر جاتی ہے۔ کیا آپ خدا کے قریب جانے اور اس سے خوشی اور سکون حاصل کرنے کے لیے خُدا کے الفاظ سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟

تنظیمات

  • متن
  • تھیمز

گہرے رنگ

تھیمز

فونٹس

فونٹ کا سائز

سطور کا درمیانی فاصلہ

سطور کا درمیانی فاصلہ

صفحے کی چوڑائی

مندرجات

تلاش کریں

  • اس متن میں تلاش کریں
  • اس کتاب میں تلاش کریں

کے ذریعے ہم سے رابطہ کریں WhatsApp