تمھیں اپنے اعمال پر غور کرنا چاہیے

تمھاری زندگی کا ہرعمل اور فعل یہ ظاہر کرتا ہے کہ تمھیں ہر روز میرے کلام کا ایک اقتباس فراہم کیا جانا چاہیے جو تمھیں دوبارہ بھر سکے، کیونکہ تم بہت ناقص ہو، اور حاصل کرنے کے لیے تمھارا علم اور تمھاری صلاحیت بہت قلیل ہے۔ اپنی روزمرہ کی زندگیوں میں، تم ایک ایسی فضا اور ماحول کے درمیان زیست کررہے ہو جو سچائی یا اچھی حسِ سے عاری ہے۔ تمھارے پاس زندہ رہنے کے لیے سرمائے کی کمی ہے، اور تمھارے پاس مجھے یا سچائی کو جاننے کی بنیاد نہیں ہے۔ تمھارا ایمان مبہم اور تجریدی عقیدے یا انتہائی اعتقادی علم اور مذہبی رسومات کے سوا کسی چیز پر قائم نہیں ہے۔ میں ہر روز تمھاری حرکات و سکنات کو دیکھتا ہوں، تمھارے ارادوں اور برے ثمرات کا جائزہ لیتا ہوں، اور مجھے کوئی بھی ایسا شخص نہیں ملا جو واقعتاً اپنا دل اور روح میری اٹل قربان گاہ پر رکھتا ہو۔ چنانچہ میں وہ تمام کلام بیان کرنے میں وقت ضائع کرنے کو تیار نہیں ہوں جن کا اظہار میں ایسی بنی نوع انسان کے لیے کرنا چاہتا ہوں؛ میرے دل میں جو منصوبے ہیں وہ صرف میرے نامکمل کام کے ہیں اور بنی نوع انسان میں سے ان لوگوں کے لیے ہیں جنہیں مجھےابھی بچانا ہے۔ تاہم، میری خواہش ہے کہ وہ تمام لوگ جو میری پیروی کرتے ہیں میری نجات اور سچائیاں حاصل کریں جو میرا کلام انھیں عطا کرتا ہے۔ مجھے امید ہے کہ ایک دن جب تُو آنکھیں بند کرے گا تو تجھے ایک ایسی قلمرو نظر آئے گی جہاں فضاؤں میں خوشبو ہوگی اور زندہ پانیوں کی نہریں رواں ہوں گی – یہ ایک تاریک، سرد دنیا نہیں ہوگی جہاں سیاہ بادل آسمان کو داغدار کر تے ہیں اور چیخ و پکار کی آوازیں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔

ہر روز، ہر ایک کے اعمال اور خیالات ایک کی نظروں سے دیکھے جاتے ہیں، اور، ساتھ ہی ساتھ، وہ اپنے آنے والے کل کی تیاری میں ہوتے ہیں۔ یہ وہ راستہ ہے جس پر تمام زندہ لوگوں کا چلنا لازم ہے؛ یہ وہ راستہ ہے جو میں نے سب کے لیے پہلے سے مقدر کر رکھا ہے، اور کوئی بھی نہ تو اس سے بچ سکتا ہے اور نہ ہی اس سے مستثنیٰ ہو سکتا ہے۔ میں نے جو کلمات کہے ہیں ان کا کوئی شمار نہیں، اور، مزید برآں، جو کام میں نے کیا ہے، وہ بے حساب ہے۔ ہر روز، میں دیکھتا ہوں کہ ہر شخص فطری طور پر وہ سب کچھ کرتا ہے جو اسے اپنی جبلی فطرت اور اپنی فطرت کی نشوونما کے مطابق کرنا ہے۔ نا دانستہ طور پر، بہت سے لوگ پہلے ہی "صحیح راستے،" پر قدم رکھ چکے ہیں، جسے میں نے مختلف اقسام کے لوگوں کی توضیح کے لیے وضع کیا ہے۔میں نے ان مختلف قسم کے لوگوں کو عرصہ دراز سے مختلف ماحول اور، ان کی متعلقہ جگہوں پر رکھا ہے، ہر ایک نے اپنی موروثی صفات کا اظہار کیا ہے۔ انھیں کوئی باندھنے والا نہیں، انھیں کوئی ورغلانے والا نہیں۔ وہ مکمل طور پر آزاد ہیں اور وہ جو اظہار کرتے ہیں وہ قدرتی طور پر آتا ہے۔ صرف ایک چیز انھیں قابو میں رکھتی ہے: میرا کلام۔ چنانچہ کچھ لوگ میرا کلام بغض کے ساتھ پڑھتے ہیں، کبھی اس پر عمل نہیں کرتے، ایسا صرف موت سے بچنے کے لیے کرتے ہیں؛ دیگر، دریں اثنا، کہ اگر انھیں اپنی رہنمائی اور رزق کے لیے میرا کلام نہ ملے تو ان کا دن گزارنا مشکل ہو جاتا ہے، اور اس لیے وہ قدرتی طور پر میرے کلام کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جاتا ہے، وہ انسانی زندگی کا راز، بنی نوع انسان کی منزل، اور انسان ہونے کی قدر دریافت کرتے ہیں۔ میرے کلام کی موجودگی میں بنی نوع انسان بالکل اسی طرح ہے، اور میں صرف معاملات کو اپنے راستے پر چلنے دیتا ہوں۔ میں کوئی ایسا کام نہیں کرتا جس سے لوگ میرے کلام کو اپنے وجود کی بنیاد بنانے پر مجبور ہو جائیں۔ تو وہ لوگ جن کا کبھی ضمیر نہیں رہا، اور جن کے وجود کی کبھی کوئی قدروقیمت نہیں رہی، وہ میرے کلام کو دیدہ دلیری سے ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور خاموشی سے دیکھ کر کہ چیزیں کیسی جا رہی ہیں، جیسا وہ چاہتے ہیں، کرتے ہیں۔ وہ سچائی سے اور ہر اس شے سے جو میری طرف سے آتی ہے، نفرت کرنے لگتے ہیں۔ مزید برآں، وہ میرے گھر میں رہنے سے نفرت کرتے ہیں۔ اپنی منزل کی خاطر، اور سزا سے بچنے کے لیے، یہ لوگ میرے گھر میں ایک وقت تک، خواہ وہ خدمت ہی کیوں نہ کر رہے ہوں، سکونت پذیر ہوتے ہیں۔ تاہم، ان کے ارادے اور اعمال کبھی نہیں بدلتے۔ یہ نعمتوں کے تئیں ان کی خواہش میں اضافہ کرتا ہے، اور بادشاہی میں ایک بار داخل ہونے – یہاں تک کہ ابدی جنت میں داخل ہونے اور بعد ازاں ہمیشہ کے لیے رہنے کی خواہش کو بڑھاتا ہے۔ میرے دن کے جلد آنے کے لیے وہ جتنا زیادہ تڑپتے ہیں، اتنا ہی وہ محسوس کرتے ہیں کہ سچائی ان کے راستے میں ایک رکاوٹ، ایک سنگِ راہ بن گئی ہے۔ وہ آسمانی بادشاہی کی برکات سے ہمیشہ کے لیے لطف اندوز ہونے کی خاطر بادشاہی میں قدم رکھنے کے لیے مشکل سے ہی انتظار کر سکتے ہیں – سب کچھ سچائی کی پیروی کیے بغیر یا انصاف اور تادیب قبول کیے بغیر اور، سب سے بڑھ کر، میرے گھر کے اندر رینگنے کی ضرورت اور میرے حکم کے تابع ہوئے بغیر۔ یہ لوگ میرے گھر میں نہ تو سچائی کی جستجو کی اپنی خواہش پوری کرنے اور نہ ہی میری حکمت عملی کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے داخل ہوتے ہیں؛ ان کا مقصد صرف ان لوگوں میں شامل ہونا ہوتا ہے جو آنے والے زمانے میں تباہ نہیں ہوں گے۔ اس لیے ان کے دلوں نے کبھی نہیں جانا کہ سچائی کیا ہے، یا سچائی کیسے قبول کی جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگوں نے کبھی سچائی پر عمل نہیں کیا اور نہ ہی اپنے بگاڑ کی گہرائی کا احساس کیا اور پھر بھی میرے گھر میں ہمیشہ "خادمین" کی طرح رہے ہیں۔ وہ " صبرسے" میرے دن کی آمد کے منتظر ہیں اور ان تھک ہیں،چاہے میرے کام کا طریقہ انھیں کتنا بھی ادھر ادھر پھینکے۔ لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ان کی کتنی بڑی کوششیں ہیں یا وہ کیا قیمت ادا کرتے ہیں، کسی نے انھیں کبھی سچائی کے لیے تکلیف اٹھاتے یا میری خاطر کچھ دیتے ہوئے نہیں دیکھا۔ وہ اپنے دلوں میں، وہ دن دیکھنے کی اضطراب انگیز خواہش رکھتے ہیں جس دن میں پرانا دور ختم کردوں گا، علاوہ ازیں، وہ یہ جاننے کے لیے انتظار نہیں کر سکتے کہ میری طاقت اور اختیار کتنا عظیم ہے۔ جس کام میں انھوں نے کبھی جلدی نہیں کی، وہ ہے خود کو بدلنا اور سچائی کی پیروی کرنا۔ جس سے میں تنگ آ چکا ہوں وہ اس سے محبت کرتے ہیں اور جس سے میں محبت کرتا ہوں وہ اس سے تنگ ہیں۔ وہ اس چیز کی آرزو کرتے ہیں جس سے میں نفرت کرتا ہوں، لیکن جس سے میں نفرت کرتا ہوں وہ اسے کھونے سے ڈرتے ہیں۔ وہ اس پُرخباثت دنیا میں رہتے ہیں، اس سے کبھی نفرت نہیں کرتے، بلکہ اس بات سے بہت ڈرتے ہیں کہ میں اسے تباہ کر دوں گا۔ اپنے متضاد ارادوں کے درمیان، وہ اس دنیا سے محبت کرتے ہیں جس سے میں نفرت کرتا ہوں، لیکن ساتھ ہی یہ آرزو بھی رکھتے ہیں کہ میں اسے جس قدر جلد ممکن ہو تباہ کر دوں تاکہ وہ تباہی کے عذاب سے بچ جائیں اور اگلے زمانے کے آقاؤں میں تبدیل ہو جائیں، قبل اس کے کہ وہ سچے راستے سے بھٹکیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ سچائی سے محبت نہیں کرتے اور میری طرف سے آنے والی تمام چیزوں سے بے زار ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ وہ برکات سے محروم نہ ہونے کی خاطر تھوڑے وقت کے لیے "فرمانبردار لوگ" بن جائیں، لیکن ان کی فیض یاب ہونے کی بے چینی، اور فنا ہونے اور دہکتی ہوئی آگ کی جھیل میں داخل ہونے کا خوف، کبھی چھپایا نہیں جا سکتا۔ جیسے جیسے میرا دن قریب آ رہا ہے، ٹھیک اسی طرح ان کی خواہش توانا ہوتی جا رہی ہے۔ اور جتنی بڑی آفت آئے گی اتنا ہی زیادہ بے بس کر دے گی، انھیں یہ معلوم نہیں ہوگا کہ مجھے خوش کرنے کے لیے کہاں سے شروع کریں اور ان نعمتوں سے محروم ہونے سے کیسے بچیں جن کے لیے وہ طویل عرصے سے ترس رہے ہیں۔ جیسے ہی میرا ہاتھ اپنا کام کرنا شروع کرتا ہے ایسے لوگ ہراول دستہ کے طور پر کام کرنے کے لیے بے چین ہوتے ہیں۔ وہ صرف فوجیوں کے ہراول تک بڑھنے کے بارے میں سوچتے ہیں، اس بات سے بہت ہی خوفزدہ ہیں کہ میں انھیں نہیں دیکھوں گا۔ وہ وہی کرتے اور کہتے ہیں جسے وہ صحیح سمجھتے ہیں، یہ بالکل نہیں جانتے کہ ان کے اعمال و افعال کبھی بھی سچائی کے مطابق نہیں رہے ہیں، اور یہ کہ ان کے اعمال محض میرے منصوبے میں خلل ڈالتے اور مداخلت پیدا کرتے ہیں۔ ممکن ہے کہ انھوں نے بہت کوشش کی ہو، اور مشکلیں برداشت کرنے کی اپنی مرضی اور ارادے میں سچے ہوں، لیکن جو کچھ وہ کرتے ہیں ان کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ ان کے اعمال نیک نیتی کی پیداوار ہوں، کجا یہ کہ میں نے انھیں اپنی قربان گاہ پر اکچھ بھی رکھتے ہوئے دیکھا ہو۔ یہ وہ اعمال ہیں جو انھوں نے ان برسوں میں میرے سامنے کیے ہیں۔

اصل میں، میں تم لوگوں کو مزید سچائیاں فراہم کرنا چاہتا تھا، لیکن مجھے اس سے گریز کرنا پڑا کیونکہ سچائی کے بارے میں تمھارا رویہ نہائت سرد اور لاتعلقی والا ہے؛ میں یہ نہیں چاہتا کہ میری کوششیں رائیگاں جائیں، اور نہ ہی میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ لوگ میرا کلام پکڑے رہیں اور ساتھ ہی ہر لحاظ سے وہ کام کریں جو میری مخالفت کرتے ہیں، مجھے بدنام کرتے ہیں، اور میری گستاخی کرتے ہیں۔ تمھارے رویوں اور تمھاری انسانیت کی وجہ سے، میں تمھیں صرف ایک چھوٹا سا اور، تمھارے لیے، اپنے کلام کا بہت اہم حصہ فراہم کرتا ہوں، جو بنی نوع انسان کے درمیان میری طرف سے آزمائش کا کام کرتا ہے۔ صرف اب میں نے صحیح معنوں میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ میں نے جو فیصلے کیے اور منصوبہ بنایا ہے وہ تمھاری ضروریات کے مطابق ہے اور، مزید یہ کہ، بنی نوع انسان کے لیے میرا ایک درست رویہ ہے۔ میرے سامنے تمھارے کئی سالوں کے رویے نے مجھے ایک جواب دیا ہے جس کی کوئی نظیر نہیں ہے، اور اس جواب کا سوال یہ ہے کہ: "سچائی اور سچے خدا کے سامنے انسان کا رویہ کیا ہے؟" میں نے جو کوششیں انسان کے لیے وقف کی ہیں وہ انسان کے لیے میری محبت کا جوہر ثابت کرتی ہیں، اور میرے سامنے انسان کا ہر عمل سچائی کے تئیں اس کی نفرت اور میری مخالفت کا جوہر ثابت کرتا ہے۔ میں ان سب کے لیے ہمہ وقت، فکر مند رہتا ہوں جو میری پیروی کرتے ہیں، پھر بھی جو لوگ میری پیروی کرتے ہیں وہ کبھی بھی میرا کلام حاصل کرنے کے اہل نہیں ہوتے؛ یہاں تک کہ وہ میری تجاویز قبول کرنے کے بھی اہل نہیں ہوتے۔ یہ وہ چیز ہے جو مجھے سب سے زیادہ دکھ دیتی ہے۔ مجھے کبھی کوئی نہیں سمجھ سکا اور نہ ہی، اس کے علاوہ کبھی کوئی مجھے قبول کرنے کے قابل ہو سکا ہے، حالانکہ میرا رویہ مخلصانہ ہے، اور میرے کلمات نرم ہیں۔ میں نے انھیں جو کام تفویض کیا ہے اسے ہر کوئی اپنے اپنے خیالات کے مطابق کرنے کی کوشش کرتا ہے؛ وہ میرے ارادے کی جستجو نہیں کرتے، یہ پوچھنا تو درکنار کہ میں ان سے کیا چاہتا ہوں۔ جب وہ میرے خلاف بغاوت کرتے ہیں تب بھی وہ وفاداری سے میری خدمت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ جو سچائیاں ان کے لیے ناقابل قبول ہیں یا جن پر وہ عمل نہیں کر سکتے وہ سچائیاں ہی نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں میں، میری سچائیاں ایسی بن جاتی ہیں جنھیں جھٹلایا جاتا ہے اور جنہیں ایک طرف کر دیا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، لوگ مجھے لفظی طور پر خدا کے طور پر پہچانتے ہیں، پھر بھی مجھے خارجی مانتے ہیں جو سچائی، راستہ، یا زندگی نہیں ہے۔ یہ سچائی کوئی نہیں جانتا: میرا کلام ہمیشہ کے لیے اٹل سچائی ہے۔ میں انسان کے لیے زندگی کا سامان اور بنی نوع انسان کے لیے واحد راہنما ہوں۔ میرے کلام کی اہمیت اور معنی کا تعین اس بات سے نہیں ہوتا کہ بنی نوع انسان کی طرف سے اسے پہچانا جاتا یا قبول کیا جاتا ہے، بلکہ خود کلام کے جوہر سے اس کا تعین ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اس روئے زمین پر کوئی ایک شخص بھی میرا کلام حاصل نہ کر سکے، تب بھی میرے کلام کی قدر اور بنی نوع انسان کے لیے ان کی مدد کسی بھی انسان کے لیے ناقابل تخمین ہے۔ لہٰذا، جب بہت سے ایسے لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو میرے کلام سے بغاوت کرتے ہیں، اس کی تردید کرتے ہیں، یا اس کی سراسر توہین کرتے ہیں، تو میرا موقف صرف یہ ہوتا ہے: وقت اور حقائق میرے گواہ ہیں اور وہ یہ ظاہر کریں گے کہ میرا کلام ہی سچائی، راستہ اور زندگی ہے۔ اسے یہ ظاہر کرنے دیں کہ میں نے جو کچھ کہا ہے وہ صحیح ہے، یہ وہی ہے جس سے انسان کو مزین کیا جانا چاہیے اور، علاوہ ازیں، انسان کو قبول کرنا چاہیے۔ میں اپنے تمام پیروکاروں کو اس حقیقت سے آگاہ کروں گا: وہ لوگ جو میرا کلام پوری طرح سے قبول نہیں کر سکتے، جو میرے کلام پر عمل نہیں کر سکتے، جو میرے کلام میں کوئی مقصد نہیں تلاش کر سکتے، اور جو میرے کلام کی وجہ سے نجات حاصل نہیں کر سکتے، یہ وہ لوگ ہیں جن کی میرے کلام سے مذمت کی گئی ہے اور، علاوہ ازیں، میری نجات سے محروم ہو چکے ہیں، اور میری لاٹھی کبھی بھی ان سے دور نہیں ہوگی۔

اپریل 26، 2003

سابقہ: ایک نہایت سنگین مسئلہ: دھوکا دہی (2)

اگلا: انسان کی زندگی کا ماخذ خدا ہے

خدا کے بغیر ایام میں، زندگی اندھیرے اور درد سے بھر جاتی ہے۔ کیا آپ خدا کے قریب جانے اور اس سے خوشی اور سکون حاصل کرنے کے لیے خُدا کے الفاظ سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟

تنظیمات

  • متن
  • تھیمز

گہرے رنگ

تھیمز

فونٹس

فونٹ کا سائز

سطور کا درمیانی فاصلہ

سطور کا درمیانی فاصلہ

صفحے کی چوڑائی

مندرجات

تلاش کریں

  • اس متن میں تلاش کریں
  • اس کتاب میں تلاش کریں

کے ذریعے ہم سے رابطہ کریں WhatsApp