جوانوں اور بوڑھوں کے لیے کلام

میں نے زمین پر بہت زیادہ کام کیا ہے، اور میں اتنے برسوں انسانوں کے درمیان چلتا رہا ہوں، پھر بھی لوگوں کو میری شکل اور میرے مزاج کا علم شازونادر ہی ہوتا ہے، اور چند لوگ ہی اس کام کی اچھی طرح وضاحت کر سکتے ہیں جو میں کرتا ہوں۔ بہت سی چیزیں ہیں جن کی لوگوں میں کمی ہے اور ان میں میرے کام کی سمجھ بوجھ کی ہمیشہ کمی رہتی ہے، اور ان کے دل ہمیشہ اس طرح چوکس رہتے ہیں جیسے وہ بہت زیادہ خوفزدہ ہوں کہ میں انھیں کسی اور صورتحال میں ڈال دوں گا اور پھر ان پر مزید توجہ نہیں دوں گا۔ اس طرح، لوگوں کے میرے بارے میں رویے ہمیشہ احتیاط کی سخت خوراک کے جوش و خروش سے عاری ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگ اس کام کو سمجھے بغیر جو میں کرتا ہوں، موجودہ وقت تک پہنچ گئے ہیں اور خاص طور پر وہ اس کلام سے حیران ہوتے ہیں جو میں ان سے کہتا ہوں۔ وہ میرے کلام کو اپنے ہاتھوں میں پکڑتے ہیں، اور یہ نہیں جانتے کہ آیا انھیں ان پر پختہ یقین کرنا چاہیے یا انھیں تذبذب کرنے کا انتخاب کرنا چاہیے اور اسے بھول جانا چاہیے۔ وہ نہیں جانتے کہ انھیں اس پر عمل کرنا چاہیے یا انتظار کرنا اور دیکھنا چاہیے، کیا انھیں سب کچھ ایک طرف رکھ کر بہادری کے ساتھ پیروی کرنی چاہیے یا پہلے کی طرح دنیا سے دوستی کا سلسلہ جاری رکھنا چاہیے۔ لوگوں کی اندرونی دنیائیں بہت پیچیدہ ہیں، اور وہ بہت چالاک ہیں۔ چونکہ لوگ میرے کلام کو صاف یا مکمل طور پر نہیں دیکھ سکتے ہیں، ان میں سے بہت سے لوگوں کو ان پر عمل کرنے میں مشکل پیش آتی ہے اور میرے سامنے اپنا دل پیش کرنے میں دشواری ہوتی ہے۔ میں تمہاری مشکلات کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہوں۔ جسم میں رہتے ہوئے بہت سی کمزوریاں ناگزیر ہو جاتی ہیں، اور بہت سے معروضی عوامل تمہارے لیے مشکلات پیدا کرتے ہیں۔ تم اپنے خاندان کا پیٹ پالتے ہو، اپنے دن محنت کرنے میں گزارتے ہو، اور مہینے اور سال تکلیف میں گزرتے ہیں۔ جسم میں زندگی بسر کرنے میں بہت سی مشکلات ہوتی ہیں – میں اس سے انکار نہیں کرتا ہوں، اور بلاشبہ تم سے میرے تقاضے تمہاری مشکلات کے مطابق کیے جاتے ہیں۔ میں جو کام کرتا ہوں اس کے سب تقاضوں کی بنیاد تمہاری اصل حیثیت پر ہوتی ہے۔ شاید ماضی میں لوگوں نے تم سے اپنے کام میں جو تقاضے کیے تھے ان میں زیادتی کے عناصر کی آمیزش ہوتی تھی، لیکن تمہیں علم ہونا چاہیے کہ میں جو کہتا اور کرتا ہوں اس میں کبھی بھی تم سے بہت زیادہ تقاضے نہیں کیے ہیں۔ تمام تقاضوں کی بنیاد لوگوں کی فطرت، جسم اور ان کی ضرورت کے مطابق ہوتی ہے۔ تمہیں علم ہونا چاہیے، اور میں تمہیں بہت واضح طور پر بتا سکتا ہوں، کہ میں لوگوں کے سوچنے کے کچھ معقول طریقوں کی مخالفت نہیں کرتا ہوں، اور میں بنی نوع انسان کی جبلی فطرت کے خلاف نہیں ہوں۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے کہ لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ میں نے جو معیارات مقرر کیے ہیں وہ اصل میں کیا ہیں، اور نہ ہی وہ میرے کلام کے اصل معانی کو سمجھتے ہیں، کہ لوگ اب تک میرے کلام کے متعلق مشکوک رہے ہیں، اور آدھے سے بھی کم لوگ میرے کلام پر یقین کرتے ہیں۔ باقی ایمان رکھنے والے نہیں ہیں، اور اس سے بھی زیادہ وہ لوگ ہیں جو یہ پسند کرتے ہیں کہ میں ”کہانیاں سناؤں“۔ اس کے علاوہ، بہت سے ایسے ہیں جو تماشے سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ میں تمہیں خبردار کرتا ہوں: میرا بہت سا کلام پہلے ہی ان لوگوں کے لیے کھول دیا گیا ہے جو مجھ پر ایمان رکھتے ہیں، اور جو بادشاہی کے خوبصورت منظر سے لطف اندوز ہوتے ہیں لیکن اس کے مقفل دروازے سے باہر ہیں اور وہ میری طرف سے پہلے ہی باہر نکالے جا چکے ہیں۔ کیا تم لوگ صرف جنگلی گھاس نہیں ہو، جس سے میں نفرت کرتا ہوں اور جسے مسترد کرتا ہوں؟ تم کیسے مجھے جاتے ہوئے دیکھ سکتے ہو اور پھر خوشی سے میری واپسی کا استقبال کر سکتے ہو؟ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ نینوا کے لوگوں نے یہوواہ کے غضبناک الفاظ کو سننے کے بعد، فوراً ہی انھوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہن کر اور اپنے اوپر راکھ چھڑک کر توبہ کی تھی۔ یہ اس وجہ سے تھا کہ انھوں نے اس کے الفاظ پر یقین کیا تھا اور وہ انتہائی خوف اور دہشت کی حالت میں تھے اور اس لیے انھوں نے ٹاٹ کے کپڑے پہن کر اور اپنے اوپر راکھ چھڑک کر توبہ کی۔ جہاں تک آج کے لوگوں کا تعلق ہے، اگرچہ تم بھی میری باتوں پر یقین کرتے ہو اور اس سے بھی بڑھ کر، یہ یقین کرتے ہو کہ یہوواہ آج ایک بار پھر تمہارے درمیان آ چکا ہے، لیکن تمہارا رویہ گستاخی کے سوا کچھ نہیں ہے، گویا تم یسوع کا مشاہدہ کر رہے تھے جو ہزاروں سال پہلے یہودیہ میں پیدا ہوا تھا اور تمہارے درمیان اب نازل ہوا ہے۔ میں اس فریب کو بخوبی سمجھتا ہوں جو تمہارے دلوں میں موجود ہے؛ تم میں سے اکثر لوگ تجسس کی وجہ سے میری پیروی کرتے ہیں اور کھوکھلے پن کے ساتھ مجھے ڈھونڈنے کے لیے آئے ہیں۔ جب تمہاری تیسری خواہش – تمہاری پرامن اور خوشگوار زندگی کی خواہش – بکھر جاتی ہے تو تمہارا تجسس بھی ختم ہوجاتا ہے۔ تم میں سے ہر ایک کے دل میں جو فریب موجود ہے وہ تمہارے قول و فعل سے ظاہر ہو جاتا ہے۔ بے تکلفی سے بات کرتے ہوئے، تم میرے متعلق صرف متجسس ہو لیکن مجھ سے خوفزدہ نہیں ہو؛ تم اپنی زبانوں کو قابو میں نہیں رکھتے ہو اور تم اپنے رویوں کو تو اور بھی کم قابو میں رکھتے ہو۔ تو پھر اصل میں تمہارا ایمان کس قسم کا ہے؟ کیا یہ حقیقی ہے؟ تم اپنی زندگیوں کی بقیہ کھوکھلی جگہوں کو بھرنے کے لیے میرے کلام کو اپنی پریشانیوں کو دور کرنے اور اپنی اکتاہٹ کو ختم کرنے کے لیے استعمال کرتے ہو۔ تم میں سے کس نے میری باتوں پر عمل کیا ہے؟ کون حقیقی ایمان رکھتا ہے؟ تم چیختے رہتے ہو کہ خدا ایک خدا ہے جو لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں دیکھ لیتا ہے، لیکن جس خدا کے بارے میں تم اپنے دلوں میں چیختے ہو وہ مجھ سے مطابقت کیسے رکھتا ہے؟ چونکہ تم اِس طرح چیخ رہے ہو تو پھر تم اُس طرح عمل کیوں کرتے ہو؟ کیا یہ ہو سکتا ہے کہ یہ وہ محبت ہو جس تم مجھے ادائیگی کرنا چاہتے ہو؟ تمہارے ہونٹوں پر تو وقف ہونے کی تھوڑی سی مقدار بھی نہیں ہے، لیکن تمہاری قربانیاں اور تمہارے اچھے اعمال کہاں ہیں؟ اگر یہ تمہارے الفاظ نہ ہوتے جو میرے کانوں تک پہنچتے ہیں تو میں تم سے اتنی نفرت کیسے کر سکتا تھا؟ اگر تم واقعی مجھ پر ایمان رکھتے، تو تم ایسی اذیت والی حالت میں کیسے پڑ سکتے تھے؟ تمہارے چہروں پر افسردگی ایسے نظر آ رہی ہے جیسے تم پاتال میں آزمائش کا سامنا کر رہے ہو۔ تمہارے پاس ذرا سی قوت بھی نہیں ہے، اور تم اپنی اندرونی آواز کے بارے میں کمزور انداز میں بات کرتے ہو۔ تم شکایات اور لعنتوں سے بھی بھرے ہو۔ تم بہت پہلے اس کام پر یقین کھو چکے ہو جو میں کرتا ہوں اور تمہارا اصل ایمان تک غائب ہو چکا ہے، تو پھر تم آخر تک پیروی کیسے کر سکتے ہو؟ چونکہ یہ ایسا ہے تو پھر تم کیسے بچائے جا سکتے ہو؟

اگرچہ میرا کام تمہارے لیے بہت مددگار ہے، پھر بھی میرے الفاظ ہمیشہ تم پر ضائع ہو جاتے ہیں اور تم پر کچھ اثر نہیں کرتے ہیں۔ میری طرف سے کامل ہونے والی چیزوں کو تلاش کرنا مشکل ہے، اور آج میں تم سے تقریباً نا امید ہو چکا ہوں۔ میں نے تمہارے درمیان کئی سالوں تک تلاش کیا ہے، لیکن کسی ایسے شخص کو ڈھونڈنا مشکل ہے جو میرا معتمد ہو سکے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں تم پر کام جاری رکھنے کے لیے پُر اعتماد نہیں ہوں، اور کوئی ایسی محبت نہیں ہے جس کے ساتھ تم سے محبت کرنا جاری رکھوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میں بہت پہلے تمہاری ”کامیابیوں“ سے بیزار ہو چکا ہوں، کیونکہ وہ حقیر اور قابل رحم ہیں؛ ایسا لگتا ہے کہ جیسے میں نے کبھی تمہارے درمیان بات ہی نہیں کی تھی اور تم میں کبھی کام ہی نہیں کیا تھا۔ تمہاری کامیابیاں بہت جی بُرا کرنے والی ہیں۔ تم اپنے اوپر ہمیشہ بربادی اور رسوائی لے کر آتے ہو، اور تمہاری تقریباً کوئی اہمیت نہیں ہے۔ میں تم میں ایک انسان کی مشابہت مشکل سے ہی پاتا ہوں اور نہ ہی کسی انسان کے سراغ کی بُو پاتا ہوں۔ تمہاری تازہ خوشبو کہاں ہے؟ تم نے کئی برسوں تک جو قیمت ادا کی ہے وہ کہاں ہے، اور نتائج کہاں ہیں؟ کیا تمہیں کبھی کوئی نتائج نہیں ملے؟ اب میرے کام کا ایک نیا آغاز ہے، ایک نئی شروعات ہے۔ میں عظیم منصوبوں کو انجام دینے لگا ہوں اور میں اس سے بھی بڑا کام کرنا چاہتا ہوں، اور تم پھر بھی پہلے کی طرح کیچڑ میں لَوٹیاں لگا رہے ہو، ماضی کے غلیظ پانیوں میں زندگی بسر کر رہے ہو، اور اپنے آپ کو اپنی اصل مشکل صورتحال سے آزاد کروانے میں عملی طور پر ناکام رہے ہو۔ اس لیے تم نے ابھی تک میرے کلام سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا ہے۔ تم نے اپنے آپ کو کیچڑ اور غلیظ پانی کے اپنے اصل مقام سے ابھی تک آزاد نہیں کروایا ہے، اور تم میرے کلام کو محض جانتے ہو، لیکن درحقیقت تم میرے الفاظ کی آزادی کے دائرے میں داخل ہی نہیں ہوئے ہو، اس لیے میرے الفاظ تم پر کبھی کھولے ہی نہیں گئے؛ وہ پیشن گوئی کی ایک ایسی کتاب کی مانند ہیں جس پر ہزاروں سالوں سے مہر لگی ہوئی ہے۔ میں تمہاری زندگیوں میں تم پرظاہر ہوتا ہوں، لیکن تم اس سے ہمیشہ بے خبر رہتے ہو۔ تم مجھے پہچانتے تک نہیں۔ میں نے جو کلام کہا ہے اس میں سے تقریباً آدھا تمہارے فیصلے کے بارے میں ہے، اور اسے جو اثر حاصل کرنا چاہیے اس کا صرف نصف ہی حاصل کرتا ہے، جو کہ تمہارے اندر گہرے خوف کو پیدا کرنا ہے۔ بقیہ نصف کلام اس پر مشتمل ہے کہ تمہیں زندگی کے بارے میں سکھائے اور یہ بتائے کہ تمہیں اپنے متعلق کیسا طرزِ عمل اختیار کرنا ہے۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ جیسے تمہارے نزدیک تو یہ کلام موجود ہی نہیں ہے، اور یا ایسے ہے کہ جیسے تم بچوں کی باتیں سن رہے ہو، ایسی باتیں جن پر تم ہمیشہ چپکے سے مسکراتے تو ہو، لیکن کبھی بھی ان عمل نہیں کرتے۔ تم ان چیزوں کے متعلق کبھی بھی فکر مند نہیں رہے؛ یہ ہمیشہ سے بنیادی طور پر تجسس کے نام پر ہوتا رہا ہے کہ تم نے میرے اعمال کا مشاہدہ کیا ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ تم اب تاریکی میں گر چکے ہو اور روشنی کو نہیں دیکھ سکتے ہو، اور اس لیے تم تاریکی میں بے چارگی کی حالت میں روتے ہو۔ جو میں چاہتا ہوں وہ تمہاری اطاعت ہے، تمہاری غیر مشروط اطاعت، اور اس سے بھی بڑھ کر میں یہ چاہتا ہوں کہ تم میری ہر بات پر مکمل یقین رکھو۔ تمہیں غفلت کا رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے اور خاص طور پر تمہیں ان باتوں میں انتخاب نہیں کرنا چاہیے جو میں کہتا ہوں، اور نہ ہی میرے کلام اور میرے کام سے لاتعلق ہونا چاہیے، جو کہ تمہاری عادت ہے۔ میرا کام تمہارے درمیان ہوا ہے اور میں نے اپنا بہت سا کلام تمہیں عطا کیا ہے، لیکن اگر تم میرے ساتھ اس طرح کا سلوک کرو گے تو میں وہ صرف غیر یہودی قوم کے خاندانوں کو ہی دے سکتا ہوں جو تم نے نہ تو حاصل کیا ہے اور نہ ہی جس پرعمل کیا ہے۔ تمام مخلوقات میں سے کون ہے جسے میں نے قابو نہیں کیا ہوا ہے؟ تم میں سے زیادہ تر لوگ ”پکے ہوئے بڑھاپے“ میں ہیں اور تم میں اس قسم کے کام کو قبول کرنے کی توانائی نہیں ہے جو میرے پاس ہے۔ تم ایک ہنہاؤ پرندے کی طرح ہو،[a] مشکل سے گزارہ کر رہے ہو، اور تم نے میری باتوں کو کبھی بھی سنجیدگی سے نہیں لیا ہے۔ نوجوان لوگ انتہائی بیکار اور بے اعتدالی سے کام کرنے والے ہیں اور میرے کام پر اس سے بھی کم توجہ دیتے ہیں۔ انھیں میری ضیافت کے لذیذ پکوان کھانے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ ایک چھوٹے پرندے کی طرح ہیں جو اپنے پنجرے سے اڑ کر مہم جوئی کرتا ہوا بہت دور فاصلے تک جا پہنچا ہے۔ اس قسم کے جوان اور بوڑھے لوگ میرے لیے کیسے فائدہ مند ہو سکتے ہیں؟ جو لوگ عمر رسیدہ ہیں وہ میرے الفاظ کو اپنی قبروں میں جانے تک پنشن کے طور پر استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں، تاکہ ان کے مرنے کے بعد ان کی روحیں اوپر آسمان تک جا سکیں؛ ان کے لیے یہ کافی ہے۔ یہ بوڑھے لوگ اب ہمیشہ ”عظیم خواہشات“ اور ”غیر متزلزل اعتماد“ رکھتے ہیں۔ اگرچہ وہ میرے کام کے لیے بہت صبر و تحمل سے کام لیتے ہیں اور ان کے پاس بوڑھے لوگوں والی یہ خوبی ہے کہ وہ سیدھے اور نہ جھکنے والے ہوتے ہیں، کسی بھی شخص یا کسی بھی چیز سے گھسیٹ لیے جانے یا شکست کھانے سے انکاری ہوتے ہیں – درحقیقت وہ ایک ناقابل دراندازی قلعے کی مانند ہیں – لیکن کیا ان لوگوں کا ایمان ایک لاش کی توہم پرستانہ بدبوُ سے بھرا ہوا نہیں ہے؟ ان کا راستہ کہاں ہے؟ کیا ان کے لیے، ان کا راستہ بہت طویل اور بہت دور دراز نہیں ہے؟ وہ میری مرضی کو کیسے جان سکتے ہیں؟ اگر ان کا اعتماد قابل تحسین بھی ہو تو بھی ان بزرگوں میں سے کتنے ہیں جو الجھے ہوئے طریقے سے پیروی نہیں کر رہے ہیں مگر درحقیقت زندگی کی جستجو کر رہے ہیں۔ کتنے لوگ واقعی میرے کام کی اصل اہمیت کو سمجھتے ہیں؟ کس کا مقصد آج اس دنیا میں اس لیے میری پیروی کرنا نہیں ہے کہ مستقبل قریب میں وہ پاتال میں نہ اترے بلکہ میری طرف سے کسی اور دنیا میں لے جایا جائے؟ کیا تمہارا یہ خیال ہے کہ تمہاری منزل اتنا ہی آسان معاملہ ہے؟ اگرچہ تم سب نوجوان جوان شیروں کی طرح ہو، لیکن تمہارے دلوں میں سچا راستہ کم ہی ہوتا ہے۔ تمہاری جوانی تمہیں میرے زیادہ کام کا حقدار نہیں بناتی ہے؛ اس کے برعکس، تم اپنے لیے ہمیشہ میری بیزاری کو بھڑکاتے ہو۔ اگرچہ تم جوان ہو، لیکن تم میں قوت یا امنگ کی کمی ہے، اور تم اپنے مستقبل کے بارے میں ہمیشہ غیر ذمہ دار رہتے ہو۔ یہ ایسے ہی ہے کہ جیسے تم لاتعلق اور افسردہ ہو۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ نوجوانوں میں جو قوت، مثالی نظریات اور موقف پایا جانا چاہیے، وہ تم میں بالکل نہیں پایا جا سکتا ہے۔ تم، اس قسم کے نوجوان، ایک موقف کے بغیر ہو اور صحیح اور غلط، اچھے اور برے، خوبصورتی اور بدصورتی میں فرق محسوس کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے ہو۔ تمہارے ایسے عناصر کو تلاش کرنا ناممکن ہے جو کہ تازہ ہوں۔ تم تقریباً مکمل طور پر پرانے انداز کے ہو، اور تم، اس قسم کے نوجوان، نے ہجوم کی پیروی کرنا، غیر منطقی ہونا بھی سیکھ لیا ہے۔ تم کبھی بھی صحیح اور غلط میں واضح طور پر فرق نہیں کر سکتے، سچ اور جھوٹ میں فرق نہیں کر سکتے، کبھی فضیلت حاصل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتے، اور نہ ہی تم یہ بتا سکتے ہو کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے، سچ کیا ہے اور منافقت کیا ہے۔ تمہارے بارے میں مذہب کی سڑاند بوڑھے لوگوں سے زیادہ بھاری اور شدید ہے۔ یہاں تک کہ تم مغرور اور غیر معقول بھی ہو، تم مسابقتی ہو، اور تمہارا جارحیت کا شوق بہت مضبوط ہے – اس قسم کا نوجوان سچائی کا حامل کیسے ہو سکتا ہے؟ جو شخص موقف اختیار نہیں کر سکتا وہ گواہی کیسے دے سکتا ہے؟ جو شخص صحیح اور غلط میں فرق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے وہ نوجوان کیسے کہلا سکتا ہے؟ جس کے اندر ایک جوان شخص کی، قوت، توانائی، تازگی، سکون اور استقامت نہ ہو وہ میرا پیروکار کیسے کہلا سکتا ہے؟ جس شخص کے پاس سچائی نہ ہو، انصاف کا احساس نہ ہو، لیکن جو کھیلنا اور لڑنا پسند کرتا ہو، وہ میرا گواہ بننے کے لائق کیسے ہو سکتا ہے؟ دوسروں کے بارے میں فریب اور تعصب سے بھری آنکھیں ایسی چیزیں نہیں ہیں جو نوجوانوں کے پاس ہونی چاہییں، اور نوجوانوں کو تخریبی، قابلِ نفرت اعمال نہیں کرنے چاہییں۔ انھیں مثالی نظریات، امنگوں اور خود کو بہتر بنانے کی پرجوش خواہش کے بغیر نہیں ہونا چاہیے؛ انھیں اپنے امکانات کے بارے میں مایوس نہیں ہونا چاہیے، اور نہ ہی انھیں زندگی میں امید یا مستقبل پر اعتماد سے محروم ہونا چاہیے؛ ان میں استقامت ہونی چاہیے کہ وہ سچائی کے اس راستے پر گامزن رہیں جس کا انتخاب انھوں نے اب کیا ہے – اپنی پوری زندگی میرے لیے صرف کرنے کی اپنی خواہش کو پورا کرنے کے لیے۔ انھیں سچائی کے بغیر نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی انھیں منافقت اور ناراست بازی کو اپنانا چاہیے – انھیں صحیح موقف پر ثابت قدم رہنا چاہیے۔ انھیں راستے سے باکل نہیں ہٹنا چاہیے، بلکہ ان میں قربانیاں دینے اور انصاف اور سچائی کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے خطرات کا سامنا کرنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ نوجوان لوگوں میں ظلمت کی طاقتوں کے ظلم و ستم کے آگے نہ جھکنے اور اپنے وجود کی اہمیت کو بدلنے کا حوصلہ ہونا چاہیے۔ نوجوانوں کو مصیبت کے سامنے ہار نہیں ماننی چاہیے، بلکہ اپنے بھائیوں اور بہنوں کے لیے معافی کے جذبے کے ساتھ کھلا اور بے تکلف رہنا چاہیے۔ بلاشبہ ہر ایک سے میرے یہی تقاضے ہیں اور ہر ایک کو میرا یہی مشورہ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر، یہ تمام نوجوانوں کے لیے میرا سکون بخش کلام ہے۔ تمہیں میرے کلام کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔ خاص طور پر نوجوان لوگوں کو مسائل میں سمجھداری سے کام لینا چاہیے اور انصاف اور سچائی کی تلاش کے عزم کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔ تمہیں تمام خوبصورت اور اچھی چیزوں کی جستجو کرنی چاہیے، اور تمہیں تمام مثبت چیزوں کی حقیقت حاصل کرنی چاہیے۔ تمہیں اپنی زندگی کے لیے ذمہ دار ہونا چاہیے، اور تمہیں اسے غیر سنجیدگی سے ہرگز نہیں لینا چاہیے۔ لوگ زمین پر آتے ہیں اور مجھ سے شاذونادر ہی ملنا ہوتا ہے اور سچائی کی تلاش اور حاصل کرنے کا موقع بھی شاذونادر ہی ملتا ہے۔ تم اس خوبصورت وقت کو اس زندگی میں جستجو کرنے کے صحیح راستے کے طور پر انعام کیوں نہیں سمجھو گے؟ اور تم ہمیشہ حق اور انصاف کو اس قدر ناقابلِ توجہ کیوں سمجھتے ہو؟ تم کیوں ہمیشہ اپنے آپ کو اس ناراست بازی اور غلاظت سے روندتے اور برباد کرتے رہتے ہو جو لوگوں کے ساتھ کھیلتی ہے؟ اور تم اُن بوڑھے لوگوں کی طرح کیوں کام کرتے ہو جو ان کاموں میں مشغول ہوتے ہیں جو ناراستباز لوگ کرتے ہیں؟ پرانی چیزوں کے پرانے طریقوں کی نقل کیوں کرتے ہو؟ تمہاری زندگیاں انصاف، سچائی اور تقدس سے معمور ہونی چاہییں؛ اتنی کم عمری میں تمہاری زندگیاں اتنی غیر اخلاقی نہیں ہونی چاہییں کہ جس سے تم پاتال میں گر جاؤ۔ کیا تم یہ محسوس نہیں کرتے ہو کہ یہ ایک خوفناک بدقسمتی ہوگی؟ کیا تم یہ محسوس نہیں کرتے ہو کہ یہ خوفناک حد تک ناانصافی ہوگی؟

تم سب کو اپنا کام بالکل بہترین انداز میں کرنا چاہیے اور اسے میری قربان گاہ پر قربان کر دینا چاہیے، اور اس کو حتمی، منفرد قربانی بنانا چاہیے، جو تم مجھے پیش کرتے ہو۔ تم سب کو اپنے موقف پر ثابت قدم رہنا چاہیے اور آسمان پر بادلوں کی طرح ہر چلنے والی ہوا کے ساتھ اڑ نہیں جانا چاہیے۔ تم اپنی آدھی زندگی محنت کرتے ہو، تو پھر تم اس منزل کی تلاش کیوں نہیں کرتے ہو جو تمہیں ملنی چاہیے؟ تم آدھی زندگی تک محنت کرتے ہو، پھر بھی تم اپنے خنزیر اور کتے جیسے والدین کو اپنے ذاتی وجود کی حقیقت اور اہمیت کو گھسیٹ کر مقبرے میں لے جانے دیتے ہو۔ کیا تم نہیں سمجھتے ہو کہ یہ تمہارے ساتھ بہت بڑا ظلم ہے؟ کیا تمہیں نہیں لگتا ہے کہ اس طریقے سے زندگی بسر کرنا بالکل بے معنی ہے؟ اس طریقے سے سچائی اور صحیح راستے کی تلاش کرنے سے ایسے مسائل پیدا ہوں گے جن سے پڑوسی بے آرام ہوں گے اور پورا خاندان ناراض ہو گا، اور یہ ہلاکت خیز تباہیوں کی طرف لے جائے گا۔ اگر تو اس طریقے سے زندگی بسر کرتا ہے تو کیا یہ سب سے زیادہ بے معنی زندگی کے برابر نہیں ہے؟ کس کی زندگی تجھ سے زیادہ خوش قسمی والی ہو سکتی ہے، اور کس کی زندگی تجھ سے زیادہ مضحکہ خیز ہو سکتی ہے؟ کیا تو اپنی خاطر میرے خوشی اور تسلی کے الفاظ حاصل کرنے کے لیے میری تلاش نہیں کرتا ہے؟ لیکن آدھی عمر تک بھاگ دوڑ کرنے کے بعد، تو مجھے اتنا مشتعل کر دیتا ہے کہ میں غصے سے بھر جاتا ہوں اور تیری طرف توجہ نہیں کرتا ہوں یا تیری تعریف نہیں کرتا ہوں – کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تیری ساری زندگی بے کار چلی گئی ہے۔ تو اتنا ڈھیٹ کیسے ہو سکتا ہے کہ تو تمام ادوار میں ان برگزیدہ بندوں کی روحوں کو دیکھ سکے جو میری روحانی تطہیر سے نکل چکے ہیں؟ تو میری طرف لاتعلق ہے اور آخر میں تو ایک مہلک تباہی کو بھڑکاتا ہے – بہتر ہوگا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا اور وسیع سمندر کے اس پار ایک خوشگوار سفر کر اور پھر میرے ”تفویض شدہ کام“ کی اطاعت کر۔ میں نے تجھے بہت پہلے بتایا تھا کہ آج، تو جتنا لاتعلق ہے اور اب بھی چلنے کے لیے تیار نہیں ہے، آخر کار میری پیدا کردہ لہروں کی لپیٹ میں آ جائے گا اور نگل لیا جائے گا۔ کیا تم واقعی اپنی حفاظت کر سکتے ہو؟ کیا تو واقعی پراعتماد ہے کہ تیرا جستجو کرنے کا موجودہ طریقہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ تو کامل بن گیا ہے؟ کیا تیرا دل بہت سخت نہیں ہے؟ اس قسم کی پیروی، اس قسم کی جستجو، اس قسم کی زندگی، اور اس قسم کا کردار – یہ میری تعریف کیسے حاصل کر سکتا ہے؟

حاشیہ:

a. ہنہاؤ پرندے کی کہانی ایسوپ کی چیونٹی اور ٹڈے کے افسانے سے بہت ملتی جلتی ہے۔ ہنہاؤ پرندہ اپنے پڑوسی کوّے کی طرف سے بار بار خبردار کے باوجود گرم موسم کے دوران گھونسلہ بنانے کی بجائے سونے کو ترجیح دیتا ہے۔ جب سردیاں آتی ہیں تو پرندہ سردی سے جم کر مر جاتا ہے۔

سابقہ: خلاصی کے دور کے کام کے پیچھے اصل کہانی

اگلا: تجھے علم ہونا چاہیے کہ پوری نوع انسانی نے کیسے آج کے دن تک کی ترقی کی ہے

خدا کے بغیر ایام میں، زندگی اندھیرے اور درد سے بھر جاتی ہے۔ کیا آپ خدا کے قریب جانے اور اس سے خوشی اور سکون حاصل کرنے کے لیے خُدا کے الفاظ سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟

تنظیمات

  • متن
  • تھیمز

گہرے رنگ

تھیمز

فونٹس

فونٹ کا سائز

سطور کا درمیانی فاصلہ

سطور کا درمیانی فاصلہ

صفحے کی چوڑائی

مندرجات

تلاش کریں

  • اس متن میں تلاش کریں
  • اس کتاب میں تلاش کریں

کے ذریعے ہم سے رابطہ کریں WhatsApp