فتح کے کام کی اندرونی حقیقت (1)

شیطان کی طرف سے بہت زیادہ بدعنوان بنائی گئی نوع انسانی، یہ نہیں جانتی ہے کہ ایک خدا ہے، اور اس نے خدا کی عبادت کرنی چھوڑ دی ہے۔ ابتدا میں، جب آدم اور حوا کو تخلیق کیا گیا تھا تو یہوواہ کی عظمت اور گواہی ہمیشہ سے موجود تھی۔ لیکن بدعنوان ہونے کے بعد، انسان نے عظمت اور گواہی کو کھو دیا، کیونکہ ہر ایک نے خدا کے خلاف بغاوت کی اور اس کی تعظیم کرنی بالکل چھوڑ دی۔ آج کا فتح کا کام تمام گواہی اور تمام عظمت کو بحال کرنا ہے، اور تمام لوگوں سے خدا کی عبادت کروانی ہے، تاکہ مخلوقات میں گواہی ہو؛ یہ اس مرحلے کے دوران کیا جانے والا کام ہے۔ کیسے، درستی کے ساتھ، بنی نوع انسان کو فتح کیا جائے گا؟ انسان کو مکمل طور پر قائل کرنے کے لیے اس مرحلے کے کلام کے کام کو استعمال کرتے ہوئے؛ اس کومکمل مطیع بنانے کے لیے؛ انکشاف، فیصلے، سزا، اور بے رحمانہ لعنت کا استعمال کرتے ہوئے؛ انسان کی سرکشی کو ظاہر کرکے اور اس کی مزاحمت کا فیصلہ کر کے تاکہ وہ بنی نوع انسان کی بے ایمانی اور غلاظت کو جان سکے، اور اس طرح ان چیزوں کو خدا کے راست مزاج سے موازنے کے طور پر استعمال کرے۔ یہ بنیادی طور پر اس کلام کے ذریعے ہی ہے کہ انسان کو مفتوح اور مکمل طور پر قائل ہونا ہے۔ کلام بنی نوع انسان کو فتح کرنے کا حتمی ذریعہ ہے، اور وہ سب جو خدا کی فتح کو قبول کرتے ہیں انھیں اس کے کلام کی ضرب اور فیصلے کو قبول کرنا چاہیے۔ آج کلام کرنے کا عمل بالکل صحیح معنوں میں فتح کا عمل ہے۔ اور لوگوں کو آخر کس طرح تعاون کرنا چاہیے؟ اس کلام کو کھانے اور پینے کا طریقہ جان کر، اور اس کی سمجھ حاصل کر کے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ لوگوں کو کیسے فتح کیا جاتا ہے، تو یہ وہ کام نہیں ہے جو وہ خود سے کر سکتے ہیں۔ تو صرف یہ کر سکتا ہے کہ اس کلام کو کھانے اور پینے کے ذریعے اپنی بدعنوانی اور غلاظت، اپنی سرکشی اور اپنی بے ایمانی کو جان لے اور خدا کے سامنے گر جا۔ اگر، خدا کی مرضی کا ادراک کرنے کے بعد، تو اس کو عملی جامہ پہنانے کے قابل ہے، اور اگر تیرے پاس بصیرت ہے اور تو اس کلام کی مکمل طور پر فرمانبرداری کرنے کے قابل ہے، اور خود سے کوئی انتخاب نہیں کرتا ہے، تو تو مفتوح ہو چکا ہو گا - اور یہ اس کلام کے کے نتیجے میں ہوا ہو گا۔ بنی نوع انسان گواہی سے کیوں محروم ہوا؟ کیونکہ کوئی بھی خدا پر ایمان نہیں رکھتا ہے، اور کیونکہ لوگوں کے دلوں میں خدا کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ بنی نوع انسان کا فتح ہونا بنی نوع انسان کے ایمان کی بحالی ہے۔ لوگ ہمیشہ اس مادی دنیا میں سرپٹ بھاگنا چاہتے ہیں، وہ بہت زیادہ امیدیں رکھتے ہیں، وہ اپنے مستقبل کے لیے بہت زیادہ چاہتے ہیں، اور بہت زیادہ قیمتی مطالبات رکھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ جسم کے بارے میں سوچ رہے ہوتے ہیں، جسم کے لیے منصوبہ بندی کر رہے ہوتے ہیں، اور خدا پر یقین کی راہ تلاش کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ہیں۔ ان کے دلوں کو شیطان نے چھین لیا ہے، وہ خدا کے لیے اپنا احترام کھو چکے ہیں، اور ان کا شیطان کے ساتھ غیرمعمولی لگاﺆ ہے۔ لیکن انسان کو خدا نے بنایا ہے۔ اس طرح، انسان نے گواہی کھو دی ہے، یعنی اس نے خدا کی عظمت کو کھو دیا ہے۔ بنی نوع انسان کو فتح کرنے کا مقصد خدا کے لیے انسان کی تعظیم کی عظمت کی دوبارہ بازیابی ہے۔ اسے اس طرح کہا جا سکتا ہے: بہت سے لوگ ایسے ہیں جو زندگی کے لیے کوشش نہیں کرتے؛ یہاں تک کہ اگر کچھ ایسے ہیں بھی جو زندگی کی کوشش کرتے ہیں تو وہ تعداد میں صرف مٹھی بھر ہیں۔ لوگ اپنے مستقبل کے لیے مصروف ہیں اور زندگی پر کوئی توجہ نہیں دیتے ہیں۔ کچھ لوگ خدا کے خلاف بغاوت اور مزاحمت کرتے ہیں، اس کی پیٹھ پیچھے اس کے متعلق اندازہ لگاتے ہیں، اور سچائی پر عمل نہیں کرتے ہیں۔ ان لوگوں کو فی الحال نظر انداز کر دیا گیا ہے؛ اس وقت، ان باغی بیٹوں کے ساتھ کچھ نہیں کیا گیا، لیکن مستقبل میں تو ظلمت میں، روتا اور دانت پیستا رہے گا۔ جب تو اس میں رہتا ہے تو تجھے روشنی کے قیمتی ہونے کا احساس نہیں ہوتا، لیکن تجھے اس کے قیمتی ہونے کا احساس اس وقت ہوگا جب تو تاریک رات میں رہ رہا ہو گا، اور تب تجھے افسوس ہوگا۔ تو اس وقت تو ٹھیک محسوس کر رہا ہے، لیکن وہ دن آئے گا کہ جب تجھے افسوس ہوگا۔ جب وہ دن آئے گا، اور اندھیرا نازل ہو گا اور روشنی کبھی باقی نہیں رہے گی تو پچھتانے کے لیے بہت دیر ہو جائے گی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تو آج کے کام کو ابھی تک نہیں سمجھتا ہے اور اس لیے کہ تو اس وقت کی قدر کرنے میں ناکام ہے جو اب تیرے پاس ہے۔ ایک بار جب پوری کائنات کا کام شروع ہو جائے گا، یعنی جب وہ سب کچھ سچ ہو جائے گا جو میں آج کہہ رہا ہوں، بہت سے لوگ اپنا سر پکڑ کر انتہائی تکلیف کے عالم میں آنسو بہائیں گے۔ اور ایسا کرتے ہوئے، روتے اور دانت پیستے ہوئے، کیا وہ ظلمت میں نہیں گر چکے ہوں گے؟ وہ تمام لوگ جو واقعی زندگی کے لیے کوشش کرتے ہیں اور کامل کیے جاتے ہیں، استعمال کیے جا سکتے ہیں، جب کہ بغاوت کے تمام بیٹے جو استعمال کیے جانے کے قابل نہیں ہیں، ظلمت میں گر جائیں گے۔ وہ روح القدس کے کام سے محروم ہو جائیں گے، اور کسی چیز کو سمجھنے کے قابل نہیں ہوں گے۔ یوں وہ عذاب میں گرنے کے بعد شدید اذیت میں سسکیاں لیں گے۔ اگر تو کام کے اس مرحلے میں اچھی طرح سے لیس ہے، اور تو اپنی زندگی میں ترقی کر چکا ہے، اس صورت میں تو استعمال کیے جانے کے لیے موزوں ہے۔ اگر تو اچھی طرح سے لیس نہیں ہے تو پھر اگر تجھے کام کے اگلے مرحلے کے لیے طلب کیا بھی جاتا ہے، تو تو استعمال کے لیے نااہل ہو گا - اس مقام پر اگر تو اپنے آپ کو لیس کرنا بھی چاہے گا تو پھر بھی تجھے دوسرا موقع نہیں ملے گا۔ خدا جا چکا ہو گا؛ جو اب تیرے سامنے ہے، تو اس قسم کا موقع تلاش کرنے کے لیے کہاں جا سکتا ہے؟ تو خدا کی طرف سے ذاتی طور پر فراہم کردہ تربیتی مشق حاصل کرنے کے لیے کہاں جا سکتا ہے؟ تب تک، خُدا ذاتی طور پر نہیں بول رہا ہو گا اور نہ ہی اپنی بات بیان کر رہا ہو گا؛ تو جو کچھ کرنے کے قابل ہو گا وہ صرف یہ ہے کہ تو ان چیزوں کو پڑھ سکے گا جو آج بولی جا رہی ہیں – اس وقت تجھے آسانی سے کیسے سمجھ آئے گی؟ مستقبل کی زندگی آج سے بہتر کیسے ہو سکتی ہے؟ اس وقت، روتے اور دانت پیستے ہوئے، کیا تو جیتے جی موت میں مبتلا نہیں ہو رہا ہو گا؟ اب تجھے برکات عطا کی جا رہی ہیں، لیکن تو ان سے لطف اندوز ہونا نہیں جانتا ہے؛ تو الوہی برکت میں رہ رہا ہے، پھر بھی تو بے خبر رہتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تکلیف سہنا تیرا مقدر ہے! آج، کچھ لوگ مزاحمت کرتے ہیں، کچھ بغاوت کرتے ہیں، کچھ یہ یا وہ کرتے ہیں، اور میں اسے سرے سے نظر انداز کر دیتا ہوں - لیکن یہ مت سمجھو کہ میں اس سے بے خبر ہوں کہ تم کیا کر رہے ہو۔ کیا میں تمہارے جوہر کو نہیں سمجھتا؟ میرے خلاف کیوں جھگڑتے رہتے ہو؟ کیا تو اپنی خاطر زندگی کے لیے کوشش اور نعمتیں حاصل کرنے کے لیے خدا پر یقین نہیں رکھتا ہے؟ کیا یہ خود تیری اپنی خاطر نہیں ہے کہ تجھے ایمان حاصل ہو؟ موجودہ وقت میں فتح کا کام میں صرف بول کر انجام دے رہا ہوں، اور جب یہ فتح کا کام ختم ہو جائے گا تو تمہارا انجام ظاہر ہو جائے گا۔ کیا مجھے تمہیں واضح طور پر بتانا پڑے گا؟

آج کے فتح کے کام کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ انسان کا انجام کیا ہوگا۔ یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ آج کی سزا اور فیصلہ آخری ایام کے عظیم سفید تخت کے سامنے فیصلہ ہے؟ کیا تو یہ نہیں دیکھتا؟ فتح کا کام آخری مرحلے میں کیوں ہے؟ کیا یہ بعینہ واضح کرنا نہیں ہے کہ انسان کے ہر طبقے کو کس قسم کا انجام ملے گا؟ کیا یہ اس لیے نہیں ہے کہ ہر ایک کو، سزا اور فیصلے کے کام کی فتح دوران، اپنے اصلی رنگ دکھانے اور پھر اس کے بعد اپنی قسم کے مطابق درجہ بندی کیے جانے کا موقع ملے؟ یہ کہنے کی بجائے کہ یہ بنی نوع انسان کو فتح کر رہا ہے، یہ کہنا بہتر ہو گا کہ یہ اس کا اظہارہے کہ ہر طبقے کے افراد کا انجام کس قسم کا ہو گا۔ یہ لوگوں کے گناہوں کا فیصلہ کرنے اور پھر افراد کے مختلف طبقات کو ظاہر کرنے کے بارے میں ہے، اس طرح یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا وہ برے ہیں یا راستباز۔ فتح کے کام کے بعد نیک کو جزا اور بد کو سزا دینے کا کام شروع ہوتا ہے۔ وہ لوگ جو پوری طرح اطاعت کرتے ہیں - یعنی مکمل طور پر مفتوح ہیں - انھیں خدا کا کام پوری کائنات میں پھیلانے کے اگلے مرحلے میں رکھا جائے گا؛ جب کہ غیر مفتوح کو تاریکی میں ڈال دیا جائے گا اور تباہی اس کا مقدر ہوگی۔ اس طرح انسان کی قسم کے مطابق درجہ بندی کی جائے گی، بدکاروں کو بدی کے گروہ میں رکھا جائے گا، تاکہ وہ دوبارہ سورج کی روشنی نہ دیکھ سکیں، اور راستباز روشنی حاصل کرنے اور ہمیشہ کے لیے روشنی میں رہنے کے لیے نیکی کے گروہ میں رکھے جائیں گے۔ سب چیزوں کا خاتمہ قریب ہے؛ انسان کا انجام اس کی نظروں کے سامنے واضح طور پر دکھایا گیا ہے، اور تمام چیزوں کی درجہ بندی قسم کے مطابق کی جائے گی۔ پھر، لوگ کس طرح ہر ایک کی قسم کے مطابق درجہ بندی کی تکلیف سے بچ سکتے ہیں؟ ہر قسم کے انسان کا انجام اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب تمام چیزوں کا انجام قریب ہوتا ہے اور یہ کام پوری کائنات کو فتح کرنے کے کام کے دوران ہوتا ہے (بشمول فتح کے تمام کام کے، موجودہ کام سے شروع ہو کر)۔ تمام بنی نوع انسان کے انجام کا ظہور آخرت میں عدالت کی کرسی کے سامنے، سزا کے دوران اور آخری ایام کی فتح کے کام کے دوران ہوتا ہے۔ قسم کے مطابق لوگوں کی درجہ بندی کرنا لوگوں کو ان کے اصل طبقے کی طرف لوٹانا نہیں ہے، کیونکہ جب انسان کو تخلیق کے وقت بنایا گیا تھا تو انسانوں کی صرف ایک قسم تھی، اور جو صرف ایک تقسیم تھی وہ مرد اور عورت کی تھی۔ بہت سے مختلف قسم کے لوگ نہیں تھے۔ کئی ہزار سال کی بدعنوانی کے بعد ہی انسانوں کے مختلف طبقے وجود میں آئے ہیں جن میں سے کچھ غلیظ شیطانوں کے زیر تسلط ہیں، کچھ بدی کے شیطانوں کے زیر تسلط ہیں اور کچھ وہ لوگ ہیں جو قادرِ مطلق کے زیرِ تسلط زندگی کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ صرف اسی طرح لوگوں کے درمیان دھیرے دھیرے طبقات وجود میں آتے ہیں، اور صرف اسی طرح لوگ انسان کے بڑے خاندان میں طبقات میں الگ ہوجاتے ہیں۔ تمام لوگ مختلف "باپ" رکھتے ہیں؛ ایسا نہیں ہے کہ ہر کوئی مکمل طور پر قادرِ مطلق کے زیر تسلط ہے کیونکہ انسان بہت سرکش ہے۔ درست فیصلہ ہر قسم کے انسان کی اصلیت کو ظاہر کرتا ہے، کچھ بھی پوشیدہ نہیں چھوڑتا۔ ہر کوئی اپنا اصلی چہرہ روشنی میں دکھاتا ہے۔ اس مقام پر، انسان اب ویسا نہیں رہا جیسا کہ وہ پہلے تھا، اس کے آباﺆ اجداد کی اصلی مشابہت طویل عرصے سے ختم ہو چکی ہے، کیونکہ آدم اور حوا کی لاتعداد اولادیں طویل عرصے سے شیطان کے قبضے میں ہیں، اور پھر کبھی آسمان کے سورج کو نہیں جان سکیں گی، اور کیونکہ شیطان کا ہر طرح کا زہر لوگوں کے اندر بھر گیا ہے۔ اس طرح لوگوں کو ان کی مناسب منزلیں مل جاتی ہیں۔ مزید برآں، یہ ان کے مختلف زہروں کی بنیاد پر ہے کہ ان کی قسم کے مطابق درجہ بندی کی گئی ہے، یعنی انھیں اس حد تک ترتیب دیا گیا ہے جس حد تک وہ آج فتح ہو رہے ہیں۔ انسان کا خاتمہ ایسی چیز نہیں ہے جو دنیا کی تخلیق کے بعد سے طے شدہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابتدا میں صرف ایک طبقہ تھا جسے اجتماعی طور پر "انسانیت" کہا جاتا تھا اور انسان کو پہلے شیطان نے بدعنوان نہیں بنایا تھا، اور لوگ سب خدا کی روشنی میں رہتے تھے، ان پر اندھیرا نہیں چھاتا تھا۔ لیکن شیطان کے انسان کو بدعنوان بنانے کے بعد، ہر قسم کے اور نوعیت کے لوگ پوری زمین پر پھیل گئے - ہر قسم کے اور نوعیت کے لوگ جو اس خاندان سے آئے تھے جسے اجتماعی طور پر "انسانیت" کا نام دیا گیا تھا جو کہ نر اور مادہ پر مشتمل تھی۔ ان سب کو ان کے آباؤ اجداد نے ان کے قدیم ترین آباؤ اجداد کی جانب سے بھٹکا دیا تھا - وہ بنی نوع انسان جو مرد اور عورت پر مشتمل ہے (یعنی ابتدا میں آدم اور حوا، ان کے قدیم ترین آباؤ اجداد)۔ اس وقت، بنی اسرائیل واحد قوم تھے جن کی زمین پر زندگی کی راہنمائی یہوواہ نے کی تھی۔ مختلف قسم کے لوگ جو پورے اسرائیل سے نکلے (یعنی اصل خاندانی قبیلے سے) تو پھر یہوواہ کی رہنمائی سے محروم ہو گئے۔ یہ ابتدائی لوگ، جو انسانی دنیا کے معاملات سے بالکل ناواقف تھے، بعد میں اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ ان علاقوں میں رہنے کے لیے چلے گئے جن پر وہ دعویٰ کرتے تھے، جو کہ آج تک جاری ہے۔ اس طرح وہ اس بات سے لاعلم رہتے ہیں کہ وہ کیسے یہوواہ سے بھٹک گئے، اور کس طرح وہ آج تک ہر طرح کے غلیظ شیطانوں اور بدروحوں کی وجہ سے بدعنوان بنائے گئے ہیں۔ وہ لوگ جو اب تک بہت زیادہ بدعنوان اور زہر آلود ہو چکے ہیں – جن کو بالآخر بچایا نہیں جا سکتا - ان کے پاس اپنے آباؤ اجداد کے ساتھ جانے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، ان غلیظ شیطانوں کے ساتھ جنھوں نے انھیں بدعنوان بنایا تھا۔ وہ لوگ جو بالآخر بچائے جا سکتے ہیں وہ بنی نوع انسان کی مناسب منزل پر جائیں گے، یعنی بچائے جانے والوں اور مفتوح ہونے والوں کے مخصوص انجام تک۔ ان تمام لوگوں کو بچانے کے لیے، جن کو بچایا جا سکتا ہے، سب کچھ کیا جائے گا - لیکن جو لوگ بے حس اور لاعلاج ہیں، ان کے لیے واحد انتخاب یہ ہو گا کہ وہ عذاب کے اتھاہ گڑھے میں اپنے آباؤ اجداد کے پیچھے جائیں۔ یہ مت سمجھ کہ تیرا انجام ابتدا میں ہی مقرر کیا گیا تھا اور ظاہر صرف اب ہوا ہے۔ اگر تو اس طرح سوچتا ہے تو کیا تو بھول گیا ہے کہ بنی نوع انسان کی ابتدائی تخلیق کے دوران کوئی الگ شیطانی طبقہ تخلیق نہیں کیا گیا تھا؟ کیا تو بھول گیا ہے کہ آدم اور حوا پر مشتمل صرف ایک ہی بنی نوع انسان تخلیق کیا گیا تھا (یعنی صرف مرد اور عورت کو تخلیق کیا گیا تھا)؟ اگر تو ابتدا میں شیطان کی اولاد ہوتا تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ جب یہوواہ نے انسان کو تخلیق کیا تو اس نے اپنی تخلیق میں ایک شیطانی گروہ کو شامل کیا؟ کیا وہ ایسا کچھ کر سکتا تھا؟ اس نے انسان کو اپنی گواہی کے لیے پیدا کیا۔ اس نے انسان کو اپنی عظمت کی خاطر پیدا کیا۔ اس نے دانستہ شیطان کی نسل کا ایک طبقہ کیوں تخلیق کیا ہوگا جو جانتے بوجھتے اس کی مزاحمت کرے؟ یہوواہ ایسا کام کیسے کر سکتا تھا؟ اگر ایسا ہوتا تو کون کہتا کہ وہ راستباز خدا ہے؟ اب جب میں کہتا ہوں کہ تم میں سے کچھ لوگ آخر میں شیطان کے ساتھ جاﺆ گے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ تو شروع سے ہی شیطان کے ساتھ تھا؛ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ تو اس قدر گر چکا ہے کہ اگرچہ خدا نے تجھے بچانے کی کوشش کی ہے، پھر بھی تو اس نجات کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ تیری درجہ بندی شیطان کے ساتھ کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ صرف اس لیے ہے کہ تو نجات سے باہر ہے، اس لیے نہیں کہ خدا تیرے ساتھ ناانصافی کرتا ہے اور جان بوجھ کر تیری تقدیر کو شیطان کا مجسم بناتا ہے اور پھر تیری درجہ بندی شیطان کے ساتھ کرتا ہے اور جان بوجھ کر تجھے مصیبت میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ یہ فتح کے کام کی اندرونی سچائی نہیں ہے۔ اگر تجھے اسی پر یقین ہے تو تیری سمجھ بہت یک طرفہ ہے! فتح کے آخری مرحلے کا مقصد لوگوں کو بچانا ہے، اور ان کے انجام کو بھی ظاہر کرنا ہے۔ یہ فیصلے کے ذریعے لوگوں کے انحطاط کو ظاہر کرنا ہے، تاکہ وہ توبہ کریں، اوپر اٹھیں اور زندگی کے لیے کوشش کریں اور انسانی زندگی کے صحیح راستے پر چلیں۔ یہ بے حس اور کند ذہن لوگوں کے دلوں کو جگانا ہے اور فیصلے کے ذریعے ان کی اندرونی سرکشی کو ظاہر کرنا ہے۔ تاہم، اگر لوگ اب بھی توبہ کرنے سے قاصر ہیں، اب بھی انسانی زندگی کے صحیح راستے پر چلنے کی کوشش کرنے سے قاصر ہیں اور ان بدعنوانیوں کو دور کرنے سے قاصر ہیں تو وہ نجات سے باہر ہیں، اور شیطان انھیں نگل لے گا۔ خدا کی فتح کی یہی اہمیت ہے: لوگوں کو بچانا، اور ان کے انجام کو بھی ظاہر کرنا۔ اچھے انجام، برے انجام - یہ سب فتح کے کام سے ظاہر ہوتے ہیں۔ آیا لوگوں کو بچایا جائے گا یا وہ ملعون ٹہرائے جائیں گے، یہ سب فتح کے کام کے دوران ظاہر ہوتا ہے۔

آخری ایام وہ ہیں جب تمام چیزوں کی فتح کے ذریعے قسم کے مطابق درجہ بندی کی جائے گی۔ فتح کرنا آخری ایام کا کام ہے؛ دوسرے لفظوں میں، ہر شخص کے گناہوں کا فیصلہ کرنا آخری ایام کا کام ہے۔ ورنہ لوگوں کی درجہ بندی کیسے ہو سکتی ہے؟ درجہ بندی کا کام جو تمہارے درمیان کیا جاتا ہے، یہ پوری کائنات میں اس طرح کے کام کا آغاز ہے۔ اس کے بعد تمام زمینوں اور تمام قوموں کے لوگ بھی فتح کے کام کے تابع ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عدالت کی کرسی کے سامنے فیصلے کی خاطر پیش کیے جانے کے لیے مخلوق میں ہر فرد کی اس کی نوعیت کے مطابق درجہ بندی کی جائے گی۔ کوئی شخص اور کوئی چیز اس سزا اور فیصلے سے نہیں بچ سکتی، اور کوئی ایسا شخص یا چیز نہیں رہ جائے گی جس کی نوعیت کے لحاظ سے درجہ بندی نہ کی گئی ہو۔ ہر شخص کی درجہ بندی کی جائے گی، کیونکہ تمام چیزوں کا خاتمہ قریب ہے، اور تمام آسمان اور زمین اپنے اختتام کو پہنچ چکے ہیں۔ انسان انسانی وجود کے آخری ایام سے کیسے بچ سکتا ہے؟ اور اس طرح، تمہاری نافرمانی کے اعمال کتنے عرصے تک جاری رہ سکتے ہیں؟ کیا تم نہیں دیکھتے کہ تمہارے آخری ایام نمایاں ہیں۔ جو لوگ خدا کا احترام کرتے ہیں اور اس کے ظاہر ہونے کی آرزو رکھتے ہیں، وہ خدا کی راستبازی کے ظہور کا دن کیسے نہیں دیکھ سکتے؟ بھلائی کا آخری اجر انھیں کیسے نہیں مل سکتا؟ کیا تو نیکی کرنے والا ہے یا برائی کرنے والا؟ کیا تو وہ ہے جو درست فیصلے کو قبول کرتا ہے اور پھر اطاعت کرتا ہے، یا کیا تو وہ ہے جو درست فیصلے کو قبول کرتا ہے اور پھر ملعون ہے؟ کیا تو عدالت کی کرسی کے سامنے روشنی میں رہتا ہے، یا تو تاریکی میں گھرا ہوا پاتال میں رہتا ہے؟ کیا تو خود وہ نہیں ہے جو صاف طور پر جانتا ہے کہ تیرا انجام جزا پانے کا ہوگا یا سزا کا؟ کیا تو وہ نہیں ہے جو سب سے زیادہ واضح طور پر جانتا ہے اور سب سے زیادہ گہرائی میں سمجھتا ہے کہ خدا راستباز ہے؟ تو پھر تیرا طرز عمل اور دل کیسا ہے؟ جیسا کہ آج میں تجھے فتح کر رہا ہوں، کیا تجھے واقعی مجھے یہ تفصیل سے بتانے کی ضرورت ہے کہ تیرا برتاؤ اچھا ہے یا برا؟ تو نے میرے لیے کتنا کچھ ترک کیا ہے؟ تو کتنی گہرائی میں میری عبادت کرتا ہے؟ کیا تو خود انتہائی واضح طور پر نہیں جانتا کہ تو میرے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے؟ تجھے کسی دوسرے سے بہتر طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ آخرکار تیرا انجام کیا ہو گا! میں تجھے سچ بتاتا ہوں: میں نے صرف بنی نوع انسان کو پیدا کیا ہے اور میں نے تجھے پیدا کیا ہے لیکن میں نے تمہیں شیطان کے حوالے نہیں کیا ہے؛ نہ ہی میں نے تمہیں سزا دینے کے لیے جان بوجھ کر اپنے خلاف سرکشی یا مزاحمت کرنے پر مجبور کیا ہے۔ کیا یہ تمام آفتیں اور مصیبتیں اس لیے نہیں ہیں کہ تمہارے دل سخت ہیں اور تمہارا طرز عمل بہت قابلِ نفرت ہے؟ تو کیا اپنا انجام تم نے خود طے نہیں کیا ہے؟ کیا تم اپنے دلوں میں یہ بات کسی دوسرے سے بہتر نہیں جانتے ہو کہ تمہارا انجام کیسا ہوگا؟ میری لوگوں کو فتح کرنے کی وجہ یہ ہے کہ میں ان کو ظاہر کروں، اور بہتر ہے کہ تجھے نجات دلاﺆں۔ یہ تجھے برائی پر مجبور کرنے کے لیے نہیں ہے اور نہ ہی یہ جان بوجھ کر تجھے تباہی کے جہنم میں ڈالنے کے لیے ہے۔ جب وقت آئے گا تو تیری تمام بہت زیادہ مصیبتیں، تیرا رونا اور دانت پیسنا - کیا یہ سب تیرے گناہوں کی وجہ سے نہیں ہوگا؟ لہذا، کیا تیری اپنی اچھائی یا تیری اپنی برائی ہی تیرے لیے بہترین فیصلہ نہیں ہے؟ کیا یہ اس بات کا بہترین ثبوت نہیں ہے کہ تیرا انجام کیا ہوگا؟

آج، میں چین میں خُدا کے چُنے ہوئے لوگوں میں کام کرتا ہوں تاکہ اُن کے تمام باغیانہ مزاج کو ظاہر کیا جا سکے اور اُن کی تمام بدصورتیوں کو بے نقاب کیا جائے، اور یہ مجھے ہر وہ بات کہنے کا سیاق و سباق فراہم کرتا ہے جو میں کہنا چاہتا ہوں۔ اس کے بعد، جب میں پوری کائنات کو فتح کرنے کا اگلا مرحلہ انجام دوں گا، تو میں تمہارے بارے میں اپنے فیصلے کو پوری کائنات میں ہر ایک کی بے ایمانی کا فیصلہ کرنے کے لیے استعمال کروں گا، کیونکہ تم لوگ بنی نوع انسان کے درمیان باغیوں کے نمائندے ہو۔ جو لوگ قدم نہیں بڑھا سکتے وہ محض ناکام اور خدمت کرنے والی اشیاء بن جائیں گے، جب کہ جو قدم بڑھا سکتے ہیں انھیں استعمال میں لایا جائے گا۔ میں کیوں کہتا ہوں کہ جو قدم نہیں بڑھا سکتے وہ صرف ناکام لوگوں کی حیثیت سے کام کریں گے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ میرے موجودہ الفاظ اور کام سب تمہارے پس منظر کو نشانہ بناتے ہیں، اور اس لیے کہ تم تمام بنی نوع انسان کے درمیان باغیوں کے نمائندے اور نمونے بن چکے ہو۔ بعد میں، میں ان الفاظ کو جو تمہیں فتح کرتے ہیں، غیر ممالک میں لے جاؤں گا اور ان کو وہاں کے لوگوں کو فتح کرنے کے لیے استعمال کروں گا، پھر بھی تو نے انھیں نہیں اپنایا ہوگا۔ کیا یہ تجھے ناکام نہیں بنا دے گا؟ تمام بنی نوع انسان کا بدعنوان مزاج، انسان کے باغیانہ اعمال، اور انسان کی بدصورت شبیہیں اور چہرے - یہ سب آج تمہیں فتح کرنے کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ میں درج کیے گئے ہیں۔ پھر میں ان الفاظ کو ہر قوم اور ہر فرقے کے لوگوں کو فتح کرنے کے لیے استعمال کروں گا، کیونکہ تم ایک قدیم مثالی نمونہ ہو۔ تاہم، میں نے جان بوجھ کر تمہیں چھوڑنے کا ارادہ نہیں کیا؛ اگر تو اپنی کوشش میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے میں ناکام رہتا ہے اور اس وجہ سے تو لاعلاج ثابت ہوتا ہے، تو کیا تو محض ایک خدمت کرنے والی اور ناکام چیز نہیں بنے گا؟ میں نے ایک بار کہا تھا کہ میری عقل کا استعمال شیطان کی چالوں پر ہوتا ہے۔ میں نے ایسا کیوں کہا تھا؟ کیا میں اس وقت جو کچھ کہہ رہا ہوں اور کر رہا ہوں اس کے پیچھے یہ حقیقت نہیں ہے؟ اگر تو قدم نہیں بڑھا سکتا، اگر تو کامل نہیں بنایا جاتا بلکہ تجھے سزا دی جاتی ہے، تو کیا تو ناکام نہیں رہ جائے گا؟ ہو سکتا ہے کہ تو نے اپنے وقت میں بہت مصائب جھیلے ہوں، لیکن تو پھر بھی کچھ نہیں سمجھتا ہے؛ تو زندگی کے بارے میں ہر چیز سے بے خبر ہے۔ اگرچہ تجھے سزا دی گئی ہے اور فیصلہ سنایا گیا ہے مگر تو بالکل بھی نہیں بدلا ہے، اور تو نے اپنے اندر کی گہرائیوں میں زندگی حاصل نہیں کی ہے۔ جب تیرے کام کو جانچنے کا وقت آئے گا، تو تجھے آگ جیسی ناقابلِ برداشت آزمائش اور اس سے بھی بڑی مصیبت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ آگ تیرے پورے وجود کو راکھ کر دے گی۔ ایک ایسے شخص کے طور پر، جس کے پاس زندگی نہ ہو، کوئی ایسا جس کے اندر ایک اونس خالص سونا نہ ہو، کوئی ایسا جو اب بھی پرانی بدعنوانی میں جکڑا ہوا ہو، اور کوئی ایسا شخص جو ناکام بن کر بھی اچھا کام نہ کر سکے، تجھے کیسے نکالا نہیں جا سکتا؟ کیا ایک پیسے سے بھی کم وقعت والا، اور جس کے پاس زندگی نہ ہو، وہ فتح کے کام میں کسی طرح بھی کارآمد ہو سکتا ہے؟ جب وہ وقت آئے گا تو تمہارے دن نوح اور سڈوم کے دنوں سے زیادہ سخت ہوں گے۔ تب تمہاری دعائیں تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیں گی۔ تو بعد میں کیسے واپس آ سکتا ہے اور نئے سرے سے توبہ کرنا کیسے شروع کر سکتا ہے، جب کہ نجات کا کام پہلے ہی ختم ہو چکا ہو گا؟ ایک بار جب نجات کا تمام کام مکمل ہو جائے گا، تو مزید کچھ نہیں ہو گا؛ جو ہوگا وہ برے لوگوں کو سزا دینے کے کام کا آغاز ہے۔ تو مزاحمت کرتا ہے، تو باغی ہے، اور تو وہ کام کرتا ہے جن کو تو جانتا ہے کہ برے ہیں۔ کیا تو سخت عذاب کا نشانہ نہیں ہے؟ میں آج تجھے یہ تفصیل سے بتا رہا ہوں۔ اگر تو نہ سننے کا انتخاب کرتا ہے، تو بعد میں جب تجھ پر کوئی آفت آتی ہے، اور اگر اس وقت تو ندامت محسوس کرتا ہے اور یقین کرنا شروع کرتا ہے، تو کیا بہت دیر نہیں ہو جائے گی؟ میں آج تجھے توبہ کا ایک موقع دے رہا ہوں، لیکن تو ایسا کرنے کو تیار نہیں ہے۔ تو کب تک انتظار کرنا چاہتا ہے؟ سزا کے دن تک؟ مجھے تیری ماضی کی خطائیں یاد نہیں ہیں؛ میں تجھے بار بار معاف کرتا ہوں، تیرے منفی پہلو سے منہ موڑ کر صرف تیرے مثبت پہلو کو دیکھتا ہوں، کیونکہ میرے تمام موجودہ الفاظ اور کام تجھے بچانے کے لیے ہیں اور تیرے متعلق میری کوئی بری نیت نہیں ہے۔ اس کے باوجود تو داخل ہونے سے انکار کرتا ہے؛ تو اچھے اور برے میں فرق نہیں بتا سکتا اور احسان کی تعریف کرنا نہیں جانتا۔ کیا ایسے لوگ محض سزا اور برائی کی جائز مکافات کے انتظار میں نہیں رہتے؟

جب موسیٰ نے چٹان کو مارا اور یہوواہ کا عطا کردہ پانی اچھل کر نکل آیا تو یہ اس کے ایمان کی وجہ سے تھا۔ جب داؤد نے لائیر کو، میری یہوواہ کی حمد میں بجایا – اپنے خوشی سے معمور دل کے ساتھ تو یہ اس کے ایمان کی وجہ سے تھا۔ جب ایوب نے اپنے مویشیوں کے گلوں کو کھو دیا جنھوں نے پہاڑوں اور دولت کے انباروں کو بھر رکھا تھا اور اس کا جسم درد ناک آبلوں سے ڈھکا ہوا تھا تو یہ اس کے ایمان کی وجہ سے تھا۔ جب وہ مجھ، یہوواہ، کی آواز سن سکتا تھا اور میری یہوواہ کی شان دیکھ سکتا تھا، یہ اس کے ایمان کی وجہ سے تھا۔ کہ پطرس یسوع مسیح کی پیروی کر سکتا تھا یہ اس کے ایمان میں جھکنے کی بدولت تھا۔ کہ وہ میری خاطر صلیب پر کیلوں سے جڑا جا سکتا ہے اور شاندار گواہی دے سکتا ہے وہ بھی اس کے ایمان میں جھک جانے کی وجہ سے تھا۔ جب یوحنا نے آدمی کے بیٹے کی شاندار شبیہ دیکھی تو یہ بھی اس کے ایمان میں جھکنے کی وجہ سے تھا۔ جب اس نے آخری ایام کا تصور دیکھا تو یہ سب اور اس سے بھی بڑھ کر اس کے ایمان کی وجہ سے تھا۔ غیر اقوام کی نام نہاد کثرت کی میری وحی حاصل کرنے اور معلوم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ میں انسان کے درمیان اپنا کام کرنے کے لیے جسمانی شکل میں واپس آیا ہوں، یہ بھی ان کے ایمان کی وجہ سے ہے۔ وہ سب لوگ جو میرے درشت کلام کی مار سہتے ہیں اور پھر بھی انھیں سکون پہنچایا جاتا ہے اور وہ بچا لیے جاتے ہیں، کیا انھوں نے ایسا اپنے ایمان کی بدولت نہیں کیا؟ لوگوں نے اپنے ایمان کی وجہ سے بہت کچھ حاصل کیا ہے، اور یہ ہمیشہ ایک برکت نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ وہ اس قسم کی خوشی اور لطف حاصل نہ کر سکیں جو داؤد نے محسوس کی تھی، یا انھیں وہ پانی نہ ملا ہو جو یہوواہ کی طرف سے موسیٰ کو عطا ہوا تھا۔ مثال کے طور پر، ایوب کو اُس کے ایمان کی وجہ سے یہوواہ نے برکت دی تھی، لیکن اُس نے تباہی بھی برداشت کی تھی۔ خواہ تجھے برکتیں ملیں یا تو تباہی کا شکار ہو، دونوں بابرکت واقعات ہیں۔ ایمان کے بغیر، تو فتح کے اس کام کو حاصل نہیں کر پائے گا، یہوواہ کے کاموں کو آج اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنے کا امکان تو اور بھی کم ہے۔ تو دیکھنے کے قابل نہیں ہو گا، اس کو وصول کرنے کے قابل ہونے کا امکان تو اس سے بھی کم ہے۔ یہ کوڑے، یہ آفات، اور تمام فیصلے - اگر وہ تجھ پر نہیں گرتے، تو کیا تو آج یہوواہ کے کاموں کو دیکھ پاتا؟ آج، یہ ایمان ہی ہے جو تجھے مفتوح ہونے کی اجازت دیتا ہے، اور یہ مفتوح ہونا ہی ہے جو تجھے یہوواہ کے ہر عمل پر یقین کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ صرف ایمان کی وجہ سے ہے کہ تجھے ایسی سزا اور فیصلہ ملتا ہے۔ اس سزا اور فیصلے کے ذریعے، تجھے مفتوح اور کامل بنایا جاتا ہے۔ آج جس قسم کی سزا اور فیصلہ تجھے مل رہا ہے اس کے بغیر تیرا ایمان بیکار ہو گا، کیونکہ تو خدا کو نہیں جانتا؛ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تو اس پر کتنا یقین رکھتا ہے، تیرا ایمان حقیقت میں ایک بے بنیاد کھوکھلے اظہار کے طور پر رہے گا۔ فتح کے اس کام کو حاصل کرنے کے بعد ہی یہ وہ کام ہے جو تجھے مکمل طور پر فرمانبردار بناتا ہے، تیرے ایمان کو سچا اور قابل اعتماد بناتا ہے اور تیرا دل خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر تجھے اس لفظ "ایمان" کی وجہ سے بڑے فیصلے اور لعنت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، تب بھی تیرا ایمان سچا ہے اور تجھے سب سے سچی، سب سے حقیقی اور سب سے قیمتی چیز مل جاتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ صرف فیصلے کے دوران ہی ہے کہ تو خدا کی مخلوقات کی آخری منزل کو دیکھتا ہے؛ یہ اس فیصلے میں ہے کہ تو دیکھتا ہے کہ خالق سے محبت کی جانی چاہیے؛ یہ فتح کے اس کام میں ہے کہ تو خدا کے بازو کو دیکھتا ہے؛ اسی فتح میں تجھے انسانی زندگی کا مکمل ادراک ہوتا ہے؛ اسی فتح سے تجھے انسانی زندگی کا صحیح راستہ ملتا ہے اور "انسان" کا صحیح مفہوم سمجھ میں آتا ہے؛ یہ صرف اس فتح میں ہے کہ تو قادرِمطلق کے راستباز مزاج اور اس کے خوبصورت، پُرعظمت چہرے کو دیکھتا ہے؛ یہ فتح کے اس کام میں ہے کہ تو انسان کی اصلیت کے بارے میں جانتا ہے اور تمام بنی نوع انسان کی "غیر فانی تاریخ" کو سمجھتا ہے؛ اسی فتح میں تجھے بنی نوع انسان کے آباؤ اجداد اور انسانیت کی بدعنوانی کے منبع کا ادراک ہوتا ہے۔ اسی فتح میں تجھے خوشی اور سکون کے ساتھ ساتھ نہ ختم ہونے والی سزا، نظم و ضبط اور خالق کی طرف سے اس کی تخلیق کردہ نوع انسانی کے لیے ملامت کے الفاظ بھی ملتے ہیں؛ فتح کے اس کام میں ہی تجھے برکتیں ملتی ہیں اور ساتھ ہی ساتھ انسان کے لیے آنے والی آفات بھی۔۔۔۔ کیا یہ سب تیرے تھوڑے سے ایمان کی وجہ سے نہیں ہے؟ اور کیا یہ چیزیں حاصل کرنے کے بعد تیرا ایمان نہیں بڑھا؟ کیا تو نے بہت زیادہ مقدار حاصل نہیں کی ہے؟ تو نے نہ صرف خدا کا کلام سنا ہے اور خدا کی حکمت دیکھی ہے بلکہ تو نے ذاتی طور پر اس کے کام کے ہر مرحلے کا عملی تجربہ بھی کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ تو کہے کہ اگر تیرا ایمان نہ ہوتا تو تجھے اس قسم کی سزا یا اس قسم کے فیصلے میں مبتلا نہ ہونا پڑتا۔ لیکن تجھے معلوم ہونا چاہیے کہ ایمان کے بغیر قادرِ مطلق کی طرف سے تو نہ صرف اس قسم کی سزا یا اس قسم کی دیکھ بھال حاصل کرنے سے قاصر ہو گا بلکہ تو خالق سے ملاقات کا موقع بھی ہمیشہ کے لیے کھو دے گا۔ تو کبھی بھی بنی نوع انسان کی ابتدا نہیں جان سکے گا اور انسانی زندگی کی اہمیت کو کبھی نہیں سمجھ سکے گا۔ یہاں تک کہ اگر تیرا جسم مر جائے اور تیری روح چلی جائے، تب بھی تو خالق کے تمام اعمال کو نہیں سمجھ پائے گا، اس کا امکان تو اور بھی کم ہے کہ تجھے علم ہو کہ خالق نے بنی نوع انسان کو بنانے کے بعد زمین پر اتنا بڑا کام کیا ہے۔ اس بنی نوع انسان کے ایک رکن کے طور پر جسے اس نے بنایا ہے، کیا تو اس طرح جاہلانہ طور پر ظلمت میں گرنے اور ابدی سزا بھگتنے کے لیے تیار ہے؟ اگر تو اپنے آپ کو آج کی سزا اور فیصلے سے الگ کرتا ہے، تو پھر وہ کیا ہے جو تجھے ملے گا؟ کیا تجھے لگتا ہے کہ ایک بار موجودہ فیصلے سے الگ ہونے کے بعد، تو اس مشکل زندگی سے بچ سکے گا؟ کیا یہ سچ نہیں ہے کہ اگر تو "اس جگہ" کو چھوڑ دیتا ہے تو تجھے جس چیز کا سامنا کرنا پڑے گا وہ دردناک عذاب ہے یا شیطان کی طرف سے دی جانے والی ظالمانہ زیادتیاں؟ ہو سکتا ہے تجھے ناقابل برداشت دن اور راتوں کا سامنا کرنا پڑے؟ کیا تو سوچتا ہے کہ صرف اس وجہ سے کہ تو آج اس فیصلے سے بچ گیا ہے، تو ہمیشہ کے لیے اس مستقبل کی اذیت سے بچ سکتا ہے؟ تیرے راستے میں کیا آئے گا؟ کیا یہ واقعی خیالی جنتِ ارضی ہو سکتی ہے جس کی تجھے امید ہے؟ کیا تجھے لگتا ہے کہ تو اس مستقبل کی ابدی سزا سے محض حقیقت سے بھاگ کر بچ سکتا ہے جیسا کہ تو اس وقت کرتا ہے؟ آج کے بعد، کیا تو دوبارہ کبھی اس قسم کا موقع اور اس قسم کی نعمت پا سکے گا؟ جب تجھ پر آفت آتی ہے تو کیا تو انھیں تلاش کرنے کے قابل ہو گا؟ جب تمام نوع انسانی آرام میں داخل ہو جائے گی تو کیا تو ان کو تلاش کر سکے گا؟ تیری موجودہ خوش گوار زندگی اور تیرا وہ ہم آہنگ چھوٹا سا خاندان - کیا وہ تیری مستقبل کی ابدی منزل کے متبادل ہو سکتے ہیں؟ اگر تیرا ایمان سچا ہے، اور اگر تو اپنے ایمان کی وجہ سے بہت کچھ حاصل کر لیتا ہے، تو یہ سب کچھ تجھے - ایک تخلیق شدہ ہستی - کو حاصل ہونا چاہیے اور وہ بھی جو تجھے سب سے پہلے حاصل ہونا چاہیے تھا۔ تیرے ایمان اور زندگی کے لیے ایسی فتح سے زیادہ فائدہ مند کوئی اور چیز نہیں ہے۔

آج، تجھے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ خدا مفتوح ہونے والوں سے کیا مطالبہ کرتا ہے، کامل بنائے جانے والوں کے بارے میں اس کا رویہ کیا ہے، اور اس وقت تجھے کس چیز میں داخل ہونا چاہیے۔ تجھے کچھ چیزوں کو صرف تھوڑا سا سمجھنے کی ضرورت ہے۔ تجھے اسرار کے کچھ الفاظ کی چھان بین کرنے کی ضرورت نہیں ہے؛ وہ زندگی میں زیادہ مددگار نہیں ہیں، اور انھیں صرف ایک فوری نظر کی ضرورت ہوتی ہے۔ تو اسرار کو پڑھ سکتا ہے جیسے آدم اور حوا کا راز: اس وقت آدم اور حوا کیا کر رہے تھے، اور خدا آج کون سا کام کرنا چاہتا ہے۔ تجھے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ انسان کو فتح کرنے اور کامل بنانے سے، خدا انسان کو واپس اس طرح بنانا چاہتا ہے جیسے آدم اور حوا تھے۔ تیرے دل میں، تجھے کمال کی اس سطح کا اچھی طرح سے اندازہ ہونا چاہیے جو خدا کے معیارات پر پورا اترنے کے لیے حاصل ہونی چاہیے، اور پھر تجھے اس کو حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ تیری تربیتی مشق سے متعلق ہے، اور یہ وہ چیز ہے جو تجھے سمجھنی چاہیے۔ تیرے لیے یہی کافی ہے کہ تو ان معاملات میں خدا کے کلام کے مطابق داخل ہونے کی کوشش کرے۔ جب تو یہ پڑھتا ہے کہ "انسانی تاریخ کو اس مقام تک پہنچنے میں جہاں وہ آج ہے، دسیوں ہزاروں سال لگے ہیں،" تو تو متجسس ہو جاتا ہے، اور اس طرح تو بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ جواب تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ "خدا کہتا ہے کہ بنی نوع انسان کی ترقی چھ ہزار سال پرانی ہے، ٹھیک ہے؟ یہ دسیوں ہزاروں سالوں کے بارے میں کیا ہے؟" اس سوال کا جواب تلاش کرنے کا کیا فائدہ ہے؟ چاہے خدا خود دسیوں ہزاروں سالوں سے کام کر رہا ہو یا لاکھوں سالوں سے - کیا اسے واقعی اس کی ضرورت ہے کہ تجھے اس کے بارے میں علم ہو؟ یہ ایسی چیز نہیں ہے جس کے بارے میں تجھے ایک تخلیق شدہ وجود کی حیثیت سے جاننے کی ضرورت ہے۔ بس اپنے آپ کو اس قسم کی گفتگو پر مختصراً غور کرنے کی اجازت دے، اور اسے اس طرح سمجھنے کی کوشش نہ کر جیسے یہ کوئی بصیرت ہے۔ تجھے اس بات سے آگاہ ہونے کی ضرورت ہے کہ تجھے آج کس چیز میں داخل ہونا اور کس چیز کو سمجھنا چاہیے، اور پھر تجھے اس کا بہتر ادراک کرنے کی ضرورت ہے۔ صرف تب ہی تو مفتوح ہو گا۔ مندرجہ بالا کو پڑھنے کے بعد، تجھ میں ایک معمول کا ردعمل ہونا چاہیے: خدا اضطراب میں جل رہا ہے، وہ ہمیں فتح کرنا چاہتا ہے اور عظمت اور گواہی حاصل کرنا چاہتا ہے، تو پھر ہمیں اس کے ساتھ کس طرح تعاون کرنا چاہیے؟ ہمیں اس کے ذریعے مکمل طور پر مفتوح ہونے اور اس کی گواہی بننے کے لیے لازمی طور پر کیا کرنا چاہیے؟ خدا کو عظمت حاصل کرنے کے قابل بنانے کے لیے ہمیں کیا لازماً کرنا چاہیے؟ ہمیں کیا لازمی کرنا چاہیے کہ ہم خود کو خدا کے زیر تسلط رہنے دیں نہ کہ شیطان کے زیرِ تسلط؟ یہ وہی ہے جس کے بارے میں لوگوں کو سوچنا چاہیے۔ تم میں سے ہر ایک کو خدا کی فتح کی اہمیت کے بارے میں واضح ہونا چاہیے۔ یہ تمہاری ذمہ داری ہے۔ اس وضاحت کو حاصل کرنے کے بعد ہی تمہیں داخلہ ملے گا، تمہیں کام کے اس مرحلے کا علم ہو گا، اور تم پوری طرح فرمانبردار بن جاﺆ گے۔ دوسری صورت میں، تم حقیقی اطاعت حاصل نہیں کرو گے۔

سابقہ: کیا تثلیث کا وجود ہے؟

اگلا: فتح کے کام کی اندرونی حقیقت (3)

خدا کے بغیر ایام میں، زندگی اندھیرے اور درد سے بھر جاتی ہے۔ کیا آپ خدا کے قریب جانے اور اس سے خوشی اور سکون حاصل کرنے کے لیے خُدا کے الفاظ سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟

تنظیمات

  • متن
  • تھیمز

گہرے رنگ

تھیمز

فونٹس

فونٹ کا سائز

سطور کا درمیانی فاصلہ

سطور کا درمیانی فاصلہ

صفحے کی چوڑائی

مندرجات

تلاش کریں

  • اس متن میں تلاش کریں
  • اس کتاب میں تلاش کریں

کے ذریعے ہم سے رابطہ کریں WhatsApp