خدا تمام بنی نوع انسان کی تقدیر کا فیصلہ کرتاہے

نسل انسانی کے ارکان اور دین دار مسیحیوں کے طور پر، یہ ہم سب کی ذمہ داری اور فرض ہے کہ ہم اپنے دماغ اور جسم خدا کے حکم کی تکمیل کے لیے پیش کریں، کیونکہ ہمارا پورا وجود خدا کا مرہون منت ہے، اور یہ خدا کی حاکمیت کی بدولت موجود ہے۔ اگر ہمارے دماغ اور جسم خدا کے حکم کے لیے نہیں ہیں اور بنی نوع انسان کے نیک مقصد کے لیے نہیں ہیں، تو ہماری روحیں ان لوگوں کے لیے بے وقعت محسوس ہوں گی جو خدا کا حکم بجا لانے کے لیے شہید ہوئے تھے، اور اس سے بھی زیادہ خدا کے لیے بے وقعت ہوں گی، جس نے ہمیں سب کچھ عطا کیا ہے۔

خدا نے یہ دنیابنائی، اس نے یہ بنی نوع انسان بنائی اور اس کے علاوہ وہ قدیم یونانی ثقافت اور انسانی تہذیب کا معمار تھا۔ صرف خدا ہی اس بنی نوع انسان کی دل جوئی کرتا ہے، اور صرف خدا ہی اس بنی نوع انسان کی شب و روزنگہ داشت کرتا ہے۔ انسانی پیش رفت اور ترقی خدا کی حاکمیت کا لاینفک جزو ہیں، اور بنی نوع انسان کی تاریخ اور مستقبل بھی خدا کےارادوں سے الگ کرنا ممکن نہیں ہے۔ اگر تُو سچا مسیحی ہے، تو تُو بلاشبہ یقین کرے گا کہ کسی بھی ملک یا قوم کا عروج و زوال خدا کے ارادوں کے مطابق ہوتا ہے۔ صرف خدا ہی کسی ملک یا قوم کی تقدیر جانتا ہے، اور اس بنی نوع انسان کی روش کی باگ ڈور صرف خدا کے ہاتھ میں ہے۔ اگر بنی نوع انسان اچھی تقدیر کی خواہش رکھتی ہے، اگر کسی ملک کی خواہش ہے کہ اس کا نصیب اچھا ہو تو انسان کو چاہیے کہ وہ خدا کے حضور سجدہ ریز ہو، توبہ کرے اور خدا کے حضور اقرار کرے، بصورت دیگر انسان کی تقدیر اور منزل کی تباہی ناگزیر ہوگی۔

ماضی میں اس وقت پر نظر ڈالیں جب نوح نے کشتی بنائی: بنی نوع انسان بہت زیادہ بدعنوان تھی، لوگ خدا کی نعمت سے دور بھٹک گئے تھے، خدا نے ان کی نگہ داشت بند کر دی تھی، اور وہ خدا کے وعدوں سے محروم ہو چکے تھے۔ وہ خدا کی روشنی کے بغیر، ظلمت میں زندگی گزارتے تھے۔ پھر وہ فطرتاًبدکار ہوگئے اور خود کو گھناؤنی بدکاریوں کے حوالے کر دیا۔ ایسے لوگ اب خدا کا وعدہ حاصل نہیں کر سکتے تھے۔ وہ خدا کا چہرہ دیکھنےیا خدا کی آواز سننے کے قابل نہیں تھے، کیونکہ انہوں نے خدا کو چھوڑ دیا تھا، جو کچھ خدا نے انھیں عطا کیا تھا، انہوں نے ایک طرف پھینک دیاتھا، اور خدا کی تعلیمات بھول گئے تھے۔ ان کا دل خدا سے دور سے دور تر بھٹکتا چلا گیا اور جب ایسا ہوا، وہ ہر طرح سے عقل اور انسانیت سے پرے فاسد ہوتے چلے گئے۔ پھر وہ موت کے قریب پہنچ گئے اور خدا کے غضب اور سزا کی زد میں آگئے۔ صرف نوح نے خُدا کی عبادت کی اور برائی سے احتراز کیا، اور یوں وہ خُدا کی آواز اور اُس کی ہدایات سننے کے قابل تھا۔ اُس نے خُدا کے کلام کی ہدایات کے مطابق کشتی بنائی، اور اس میں ہر طرح کے جان داراکٹھے کیا۔ اور اس طرح، ایک بار جب سب کچھ تیار ہو گیا، خدا نے دنیا پر اپنی آفت نازل کر دی۔ صرف نوح اور اُس کے خاندان کے سات دیگر افراد تباہی سے بچے، کیونکہ نوح نے یہوواہ کی پرستش کی اور بُرائی سے پرہیز کیا۔

اب موجودہ دور پر نظر ڈالیں: نوح جیسے راست باز آدمی، جو خدا کی عبادت کرسکیں اور برائیوں سے بچے رہیں، ختم ہو چکے ہیں۔ اس کے باوجود خدا اب بھی اس بنی نوع انسان پر مہربان ہے اور اس آخری دور میں بھی ان سے درگزر کرتا ہے۔ خُدا اُن لوگوں کی جستجو میں رہتا ہے جو اُس کے ظاہر ہونے کی تمنا کرتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کی جستجو میں رہتا ہے جو اس کا کلام سن سکیں، جو اس کا حکم نہیں بھولے ہیں اور اپنے قلوب و اجسام اس کے حوالے کرتے ہیں۔ وہ ان لوگوں کی جستجو میں ہوتا ہے جو اس کے سامنے بچوں کی طرح فرمانبردار رہیں اور اس کی مخالفت نہ کریں۔ اگر تُوکسی طاقت یا زور سے بے نیازہو کرخود کو خدا کے لیے وقف کرتا ہے، تو خدا تیری طرف نظر کرم کرے گا اور تجھے اپنی رحمتوں سے نوازے گا۔ اگر تُو اعلیٰ مقام پر فائز، باوقار شہرت کا حامل، بہت زیادہ علم کا مالک، بے شمار اثاثوں کا مالک اور بہت سے لوگوں کا حمایت یافتہ ہے، تب بھی یہ چیزیں تجھے خدا کے سامنے آنے، اس کی دعوت قبول کرنے اور اس کا حکم بجا لانے سے نہیں روکتیں، پھر تُو جو کچھ کرے گا وہ زمین پر سب سے زیادہ معنی خیز اور بنی نوع انسان کا سب سے زیادہ نیک فریضہ ہوگا۔ اگر تُو مقام اور اپنے مقاصد کی خاطر خدا کی دعوت رد کرتا ہے تو تُو جو کچھ بھی کرے گا، خدا اس پر لعنت بھیجے گا، یہاں تک کہ اس سے نفرت بھی کرے گا۔ شایدتُو صدر، سائنس دان، پادری، یا بزرگ ہے، لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ تُو کتنے اعلیٰ عہدے پر فائز ہے، اگر تُو اپنے کاموں میں اپنے علم اور قابلیت پر بھروساکرے گا تو تُو ہمیشہ ناکام رہےگا اور ہمیشہ خدا کی نعمتوں سے محروم رہے گا، کیونکہ خدا تیری کوئی بھی چیز قبول نہیں کرتا، اور وہ یہ تسلیم نہیں کرتا کہ تیرا عہد راست بازانہ ہے، یا یہ قبول کرتا ہےکہ تُو بنی نوع انسان کی بھلائی کے لیے کام کر رہا ہے۔ وہ کہے گا کہ تُو جو کچھ بھی کرتا ہے وہ بنی نوع انسان کا علم اور طاقت استعمال کرتے ہوئے خدا کی حفاظت انسانوں سے دور کرنے کے لیےکرتا ہے، اور یہ کہ خدا کی نعمتیں جھٹلانے کے لیے کیاگیا ہے۔ وہ کہے گا کہ تُو بنی نوع انسان کو تاریکی کی طرف، موت کی طرف، اور ایک لامحدود زندگی کے آغاز کی طرف لے جارہا ہے جس میں انسان خدا اور اس کی نعمتوں سے محروم ہو چکا ہے۔

جب سے بنی نوع انسان نے سماجی علوم ایجاد کیے ہیں، انسان کے ذہن پر سائنس اور علم قابض ہو گئے ہیں۔ تب سے سائنس اور علم بنی نوع انسان کی حکمرانی کے آلات بن چکے ہیں، اور اب انسان کے لیے خدا کی عبادت کرنے کی مزید گنجائش نہیں رہ گئی اور نہ ہی خدا کی عبادت کے لیےحالات ہی زیادہ سازگار رہے۔ انسان کے دل میں خدا کا مقام ہمیشہ کے لیے اور نیچے آ گیا ہے۔ خدا کے بغیر انسان کے دل کی اندرونی دنیا تاریک، ناامید اور خالی ہے۔ بعد ازاں بہت سے سماجی سائنس دان، مورخین، اور سیاست دان سماجی علوم کے نظریات، انسانی ارتقاء کے نظریے، اور دیگر نظریات کے اظہار کے لیےمنظر عام پر آئے ہیں جو اس حقیقت سے متصادم ہیں کہ خدا نے انسان تخلیق کیا ہے، تاکہ بنی نوع انسان کے دلوں اور دماغوں کو بھر سکیں۔ اور اس طرح، ان لوگوں کی تعداد پہلے سے بھی کم ہوتی گئی جو یہ مانتے ہیں کہ سب کچھ خدا نے تخلیق کیا ہےاور نظریہ ارتقا پر یقین رکھنے والوں کی تعداد پہلے سے زیادہ ہوتی گئی۔ زیادہ سے زیادہ لوگ عہد نامہ عتیق کے زمانے میں خدا کے کام اور اس کے کلام کے نوشتوں کو روایات اور اساطیر کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کے دل خدا کی عظمت اور وقار نیز اس نظریے سے کہ خدا موجود ہے اور ہر چیز پر حاکمیت رکھتا ہے، بے حس ہو جاتے ہیں۔ بنی نوع انسان کی بقا اور ملکوں اور قوموں کی تقدیر اب ان کے لیے اہم نہیں ہیں اور انسان ایک کھوکھلی دنیا میں رہتا ہے جسے صرف کھانے پینے اور لذت کے حصول کی فکر ہے۔ ۔۔۔ بہت کم لوگ یہجاننے کی جستجو رکھتے ہیں کہ آج خدا اپنا کام کہاں کر رہا ہے، یا یہ دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ کس طرح انسان کی منزل کی رہنمائی اور انتظام کرتا ہے۔ اور اس طرح انسان کی لاعلمی میں، انسانی تہذیب انسان کی خواہشات پوری کرنے کی قدرت سے محروم ہوتی جاتی ہے، اور بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو محسوس کرتے ہیں کہ اس دنیا میں رہتے ہوئے وہ ان لوگوں سے کم خوش ہیں جو پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔ یہاں تک کہ ان ممالک کے لوگ بھی اس قسم کی شکایات کرتے ہیں جو انتہائی مہذب ہوا کرتے تھے۔ کیونکہ خدا کی رہنمائی کےبغیر، حکمران اور ماہرینِ سماجیات انسانی تہذیب بچانے کے لیے کتنا یھی سر کھپالیں، اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ انسان کے دل کا خلا کوئی پر نہیں کر سکتا، کیونکہ کوئی بھی انسان کی زندگی نہیں ہو سکتا، اور کوئی سماجی نظریہ انسان کو اس خلا سے آزاد نہیں کر سکتا جس سے وہ دوچار ہے۔ سائنس، علم، آزادی، جمہوریت، تفریح، آرام: یہ انسان کی عارضی دل جوئی کے سامان ہیں۔ ان چیزوں کے باوجود بھی انسان لامحالہ گناہ کرتا ہے اور معاشرے کی ناانصافیوں پر ماتم کرتا ہے۔ یہ چیزیں انسان کی دریافت کرنے کی طلب اور خواہش روک نہیں سکتیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کو خدا نے بنایا ہے اور انسان کی بے وقوفانہ قربانیوں اور دریافتوں کا نتیجہ مزید پریشانی کی شکل میں برآمد ہو سکتا ہے اور انسان کے خوف کی ایک مستقل حالت میں رہنے کا سبب بن سکتا ہے، وہ یہ نہیں جانتا کہ بنی نوع انسان کے مستقبل کا سامنا کیسے کرنا ہے یا جو راستہ سامنے ہے اس پر کیسے چلنا ہے۔ انسان سائنس اور علم سے بھی خوف کھاتا ہے، اور اس سے بھی کہیں زیادہ وہ خلا کے احساس سے خوف کھاتا ہے۔ اس دنیا میں، اس بات سے قطع نظر کہ تُو آزاد ملک میں رہتا ہےیا انسانی حقوق سے محروم ملک میں، تُوبنی نوع انسان کی تقدیر سے فرار حاصل کرنے پر قطعاً قادر نہیں ہے۔ خواہ تُو حاکم ہو یا محکوم، تُو بنی نوع انسان کی تقدیر، اسرار اور منزل دریافت کرنے کی خواہش سے فرار حاصل کرنے پر بالکل قادر نہیں ہے، تُو خلا کے سٹپٹا دینے والے احساس سے بچنے کی قدرت تو اور بھی کم رکھتا ہے۔ ایسے مظاہر، جو تمام بنی نوع انسان کے لیے مشترک ہیں، انھیں ماہرین سماجیات کی طرف سے سماجی مظاہر کہا جاتا ہے، پھر بھی کوئی عظیم انسان ایسے مسائل کے حل کے لیے سامنے نہیں آسکتا۔ انسان، آخر کار، انسان ہے، اور کوئی انسان خدا کے مقام اور زندگی کی جگہ نہیں لے سکتا۔ بنی نوع انسان کو صرف ایک ایسے منصفانہ معاشرے کی ضرورت نہیں ہے جس میں ہر ایک کو اچھی غذا ملے، مساوی حقوق ملیں اور وہ آزاد ہو۔ انسانوں کو جس چیز کی ضرورت ہے، وہ ہے خدا کی نجات اور ان کے لیے زندگی کا رزق۔ جب انسان کو خدا کی طرف سے زندگی کا رزق اور اس کی نجات حاصل ہو جاتی ہے تب ہی ضروریات، دریافت کرنے کی تڑپ اور انسان کا روحانی خلا دور کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی ملک یا قوم کے لوگ خدا کی نجات اور نگہداشت حاصل کرنے سے قاصر ہیں تو ایسا ملک یا قوم زوال کے راستے پر، تاریکی کی طرف گامزن ہو جائے گی، اور خدا کی طرف سے فنا کر دی جائے گی۔

ہوسکتا ہے کہ تیرا ملک اس وقت ترقی کر رہا ہو، لیکن اگر تُو اپنے لوگ خدا سے بھٹکنے دے گا تو وہ خود کو خدا کی نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ محروم پائیں گے۔ تمھارے ملک کی تہذیب تیزی سے پاؤں تلے روندی جائے گی اور جلد ہی لوگ خدا کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے اور آسمان پر لعنت بھیجیں گے۔ اور اس طرح، انسان کی لاعلمی میں، ایک ملک کی تقدیر برباد ہو جائے گی۔ خدا، ان خدا کی طرف سے لعنت یافتہ ممالک سے نمٹنے کے لیے طاقتور ممالک کھڑے کرے گا اور انھیں روئے زمین سے نیست و نابود بھی کر سکتا ہے۔ کسی ملک یا قوم کے عروج و زوال کی پیشین گوئی اس بات پر ہوتی ہے کہ آیا اس کے حکمران خدا کی عبادت کرتے ہیں، اور کیا وہ اپنے لوگوں کو خدا کے قریب ہونے اور اس کی عبادت کرنے کی طرف مائل کرتے ہیں۔ اور پھر بھی، اس آخری دور میں، کیونکہ جو لوگ حقیقی معنوں میں خدا کی جستجو کرتے اور اس کی عبادت کرتے ہیں، بہت کم ہوتے جا رہے ہیں، اس لیے خدا ان ممالک پر خصوصی احسان کرتا ہے جہاں عیسائیت سرکاری مذہب ہے۔ وہ ان ممالک کو اکٹھا کر کے دنیا کا نسبتاً راست باز لشکر بناتا ہے، جبکہ ملحد ممالک اور وہ لوگ جو سچے خدا کی پرستش نہیں کرتے، راست باز لشکر کے مخالف بن جاتے ہیں۔ اس طرح، خدا نہ صرف بنی نوع انسان کے درمیان ایک مقام رکھتا ہے، جس میں اپنا کام انجام دیتا ہے، بلکہ ایسے ممالک بھی حاصل کرتا ہے جو راست باز اختیار کا استعمال کر سکتے ہیں، اور مخالف ممالک پر جرمانےاور پابندیاں عاید کر سکتے ہیں۔ اس کے باوجود اب بھی مزید لوگ خدا کی عبادت کے لیے آگے نہیں آتے کیونکہ انسان اس سے بہت دور بھٹک چکا ہے اور انسان خدا کو بہت دیر سے بھولا ہوا ہے۔ زمین پر صرف ایسے ممالک باقی ہیں جو راست بازی کا مظاہرہ کرتے ہیں اور بے انصافی کا مقابلہ کرتے ہیں۔ لیکن یہ بھی خدا کی مرضی سے بہت دور ہے، کیونکہ کسی بھی ملک کے حکمران خدا کو اپنے لوگوں پر حاکمیت کی اجازت نہیں دیں گے، اور کوئی سیاسی جماعت اپنے عوام کو خدا کی عبادت کے لیےمجتمع نہیں کرے گی؛ خدا نے ہر ملک، قوم، حکمراں جماعت، حتیٰ کہ ہر شخص کے دل میں اپنا جائز مقام کھو دیا ہے۔ اگرچہ اس دنیا میں راست باز قوتیں موجود ہیں، لیکن جس حکومت میں عوام کے دل میں خدا کا کوئی مقام نہیں ہے، وہ کمزور ہے۔ خدا کی رحمت کے بغیر سیاسی میدان بدامنی کا شکار ہو جائے گا اور ایک بھی ضرب برداشت کرنے کا اہل نہیں رہ پائے گا۔ بنی نوع انسان کے لیے، خدا کی نعمت کے بغیر ہونا سورج کے بغیر ہونے کے مترادف ہے۔ اس سے قطع نظر کہ حکمران اپنے لوگوں کے لیے کتنی محنت سے اپنا تعاون پیش کرتے ہیں، اس سے قطع نظر کہ بنی نوع انسان راست بازی کے کتنے ہی اجلاس منعقد کرے، ان میں سے کوئی بھی مد و جذر پلٹ نہیں سکتا اور نہ ہی بنی نوع انسان کی تقدیر بدل سکتا ہے۔ انسان کا خیال ہے کہ جس ملک میں لوگوں کو کھلایا اور پہنایا جائے، جس میں وہ مل جل کر سکون سے رہتے ہوں، وہ ایک اچھا اور بھلی قیادت والا ملک ہے۔ لیکن خدا ایسا نہیں سوچتا۔ خدا کا کہنا ہے کہ ایسا ملک جس میں کوئی اس کی عبادت نہیں کرتا، اسے وہ فنا کر دے گا۔ انسان کا سوچنے کا انداز خدا سے بہت زیادہ متصادم ہے۔ پس اگر کسی ملک کا سربراہ خدا کی عبادت نہ کرے تو اس ملک کا انجام الم ناک ہوگا اور اس ملک کی کوئی منزل نہیں ہوگی۔

خدا انسان کی سیاست میں حصہ نہیں لیتا، پھر بھی کسی ملک یا قوم کی تقدیر خدا کے اختیار میں ہے۔ خدا اس دنیا اور پوری کائنات کا اختیار رکھتا ہے۔ انسان کی تقدیر اور خدا کے منصوبے کا آپس میں گہرا تعلق ہے اور کوئی بھی انسان، ملک یا قوم خدا کی حاکمیت سے مستثنیٰ نہیں ہے۔ اگر انسان اپنی قسمت جاننا چاہتا ہے تو اسے لازماً خدا کے حضور حاضر ہونا چاہیے۔ خدا ان لوگوں کو ترقی دے گا جو اس کی پیروی اور اس کی عبادت کرتے ہیں اور ان لوگوں پر زوال اور نابودی مسلط کرے گا جو اس کی مخالفت کرتے ہیں اور اسے مسترد کرتے ہیں۔

انجیل مقدس کا وہ منظر یاد کرو جب خدا نے سدوم کو غارت کیا اور یہ بھی سوچیں کہ لوط کی بیوی نمک کا ستون کیسے بن گئی۔ ماضی کا سوچیں کہ نینوا کے لوگوں نے ٹاٹ اور راکھ میں اپنے گناہوں سے کیسے توبہ کی اور یاد کریں کہ 2،000 سال قبل یہودیوں کی طرف سے یسوع کو صلیب پر میخوں سے جڑ دینے کے بعد کیا ہوا۔ یہودی اسرائیل سے نکال دیے گئے اور وہ دنیا بھر کے ممالک میں در بدر بھٹکتے رہے۔ بہت سے لوگ مارے گئے، اور پوری یہودی قوم کو اپنے ملک کی تباہی کے بے مثال درد کا سامنا کرنا پڑا۔ اُنہوں نے خُدا کو صلیب پر میخوں سے جڑا تھا – ایک گھناؤنا گناہ کیا تھا – اور خُدا کا مزاج مشتعل کیا تھا۔ انہوں نے جو کچھ کیا، انھیں اس کی قیمت چکانا پڑی، اور انھیں اپنی حرکتوں کے تمام نتائج بھگتنے پڑے۔ اُنہوں نے خُدا کی مذمت کی، خُدا کو رد کیا، سو ان کے مقدر میں صرف یہی تھا: خُدا کی طرف سے سزا پانا۔ یہ وہ تلخ نتیجہ اور تباہی تھی جو ان کے حکمران اپنے ملک اور قوم پر لے کر آئے۔

آج، خدا اپنا کام کرنے کے لیے دنیا میں واپس آیا ہے۔ اس کا پہلا پڑاؤ آمرانہ حکمرانی کی مثال: چین ہے، الحاد کا مضبوط گڑھ۔ خدا نے اپنی حکمت اور قدرت سے لوگوں کا ایک گروہ حاصل کیا ہے۔ اس عرصے میں، چین کی حکمران جماعت نے ہر طرح سے اس کا تعاقب کیا ہے اور اسے بڑی مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، سر کو آرام دینے کی جگہ نہیں ملی، اسے پناہ گاہ نہیں مل سکی۔ اس کے باوجود، خُدا اب بھی وہ کام جاری رکھے ہوئے ہے جو وہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے: وہ اپنی آواز بلند کرتا ہے اور خوش خبری پھیلاتا ہے۔ خدا کی قدرت کاملہ کوئی نہیں سمجھ سکتا۔ خدا نے چین میں، جو ایک ایسا ملک ہےجو خدا کو دشمن مانتا ہے، کبھی اپنا کام بند نہیں کیا۔ اس کے بجائے، مزید لوگوں نے اس کا کام اور کلام قبول کیا ہے، کیونکہ خدا بنی نوع انسان کے ہر ایک فرد کو حتیٰ الوسع بچاتا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ کوئی بھی ملک یا طاقت اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی، جو خدا حاصل کرنا چاہتا ہے۔ جو لوگ خدا کے کام میں رکاوٹ ڈالتے ہیں، خدا کے کلام کی مخالفت کرتے ہیں اور خدا کے منصوبے میں خلل ڈالتے ہیں اور اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں، وہ بالآخر خدا کی طرف سے سزا پائیں گے۔ جو خدا کے کام کی مخالفت کرتا ہے اسے جہنم رسید کر دیا جائے گا۔ کوئی بھی ملک جو خدا کے کام کی مخالفت کرتا ہے، تباہ ہو جائے گا۔ کوئی بھی قوم جو خدا کے کام کی مخالفت کے لیے اٹھے گی، وہ اس زمین سے مٹادی جائے گی اور معدوم ہو جائے گی۔ میں تمام قوموں، تمام ممالک اور یہاں تک کہ تمام صنعتوں کے لوگوں سے پُر زور درخواست کرتا ہوں کہ وہ خدا کو بنی نوع انسان کے درمیان سب سے مقدس، سب سے معزز، بلند ترین اور واحد معبود بنانے کے لیے خدا کی آواز سنیں، خدا کا کام دیکھیں اور بنی نوع انسان کی تقدیر پر توجہ دیں تاکہ تمام بنی نوع انسان نعمت خداوندی کے تحت زندگی گزار سکے، جس طرح ابراہیم کی اولاد یہوواہ کے وعدے کے تحت زندگی گزارتی تھی، اور بالکل اسی طرح جیسے آدم اور حوا، جنھیں خدا نے پہلے پیدا کیا، باغ عدن میں رہتے تھے۔

خدا کا کام ایک زبردست لہر کی طرح آگے بڑھتا ہے۔ کوئی اُسے محدود نہیں کرسکتا، اور کوئی اُس کی پیش قدمی نہیں روک سکتا۔ صرف وہی لوگ، جو اس کی باتیں غور سے سنتے ہیں، اور جو اس کی جستجو اور پیاس رکھتے ہیں، وہ اس کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں اور اس کا وعدہ حاصل کر سکتے ہیں۔ جو لوگ ایسا نہیں کرتے وہ زبردست تباہی اور سزا کا نشانہ بنیں گے جس کے وہ خوب مستحق ہیں۔

سابقہ: خدا کے ظہور کو اس کی عدالت و سزا میں دیکھنا

اگلا: انسان کی زندگی کا ماخذ خداہے

خدا کے بغیر ایام میں، زندگی اندھیرے اور درد سے بھر جاتی ہے۔ کیا آپ خدا کے قریب جانے اور اس سے خوشی اور سکون حاصل کرنے کے لیے خُدا کے الفاظ سیکھنے کے لیے تیار ہیں؟

تنظیمات

  • متن
  • تھیمز

گہرے رنگ

تھیمز

فونٹس

فونٹ کا سائز

سطور کا درمیانی فاصلہ

سطور کا درمیانی فاصلہ

صفحے کی چوڑائی

مندرجات

تلاش کریں

  • اس متن میں تلاش کریں
  • اس کتاب میں تلاش کریں

کے ذریعے ہم سے رابطہ کریں WhatsApp